اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 617 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 617

617 میں داخل ہوئے اس کا تصور خدا کی قدرت کا ایک نظارہ ہے گویا طاعون دوسروں کو کھانے کے لئے اور ہمارے بڑھانے کے لئے آئی۔ابھی معلوم نہیں کہ طاعون کی برکت سے کیا کچھ ترقی ہوگی۔اس برس میں تمام بیعت کرنے والوں نے اپنے ذمہ لے لیا کہ کچھ نہ کچھ ماہانہ اس سلسلہ کی مدد میں نذر کیا کریں۔سواس ایک ہی برس میں ہزار ہاروپیہ کی آمدن ہوئی اور ہزار ہا لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہیں اور وہ الہام کہ یاتیک من كل فج عميق وياتون من كل فج عميق عين طاعون کے دنوں میں پورا ہوا۔اگر کوئی شخص براہین احمدیہ کو ہاتھ میں پکڑے اور میری پہلی حالت غربت اور تنہائی جو براہین احمدیہ کے زمانہ میں تھی قادیان میں آکر تمام ہندو مسلمانوں سے دریافت کرے یا گورنمنٹ انگریزی کے کاغذات میں دیکھے کہ کب سے گورنمنٹ نے میرے سلسلہ کو ایک جماعت عظیم قرار دیا ہے تو بلاشبہ وہ یقینی او قطعی طور پر سمجھ لے گا کہ اس قدر خدا کی طرف سے حسب منشاء پیشگوئی کے نصرت ہونا اورستر ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کا بیعت میں داخل ہونا با وجود تمام مولویوں کے شور و فریاد کرنے کے بیشک ایک معجزہ ہے ورنہ خدا قادر تھا کہ اس سلسلہ کو ترقی سے روک دیتا اور مولویوں کے منصوبوں کو پورا کر دیتا یا مجھے ہلاک کر دیتا اور خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ یاتیک من كل فج عميق وياتون من كل فج عمیق اس طرح پر بھی ہر ایک پر ثابت ہو سکتا ہے کہ میں برس کے بعد ان دنوں میں پنجاب اور ہندوستان کے شہروں میں سے کوئی شہر خالی نہیں رہا جس کے باشندوں میں سے کوئی نہ کوئی قادیان میں نہیں آیا اور نہ کوئی ایسی طرف ہے جس سے مالی مدد نہ آئی اب سوچ لو کہ کیا اس قدر دور دراز عرصہ کے بعد غیب کی باتیں پورا ہونا کیا بجز خدا کی وحی کے کسی اور کی کلام میں طاقت ہے اور اگر انسان ایسا کر سکتا ہے تو نظیر کے طور پر پیش کرو کہ کس نے میری طرح گمنامی کی حیثیت میں ہو کر ظہور پیشگوئی کے دنوں سے بیس برس پہلے بذریعہ تحریر تمام دنیا میں شائع کیا کہ ایک دن وہ آنیوالا ہے کہ میری یہ حالت گمنامی جاتی رہے گی۔اور ہزار ہا تحائف میرے پاس آئیں گے اور ہزار ہا لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کر کے میرے ملنے کے لئے آئیں گے۔میں جانتا ہوں کہ ایسی نظیر پیش کرنے پر ہرگز انسان قادر نہیں۔۴۲۷