اصحاب احمد (جلد 2) — Page 616
616 من عنده - ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء - لا مبدل لكلمات الله - دیکھو صفحه ۲۴۱ براہین احمدیہ مطبوعہ ۱۸۸۰ء ۱۸۸۲ء سفیر ہند پریس امرتسر۔ترجمہ خدا کے فضل سے نو امید مت ہو یعنی یہ خیال مت کر کہ کوئی میری طرف التفات نہیں کرتا اور نہ کوئی میری نصرت کرتا ہے۔یہ بات سُن رکھ کہ خدا کا فضل قریب ہے۔خبر دار ہو کہ خدا کی مدد قریب ہے۔وہ مدد ہر ایک ایسی راہ سے تجھے پہنچے گی کہ کبھی بند نہیں ہوگا اور لوگ ہر یک راہ سے آتے رہیں گے۔جو بند نہیں ہوگا بلکہ لوگوں کے چلنے سے عمیق ہوتا رہے گا۔یعنی لوگ ہر ایک راہ سے بکثرت تیرے پاس آئیں گے۔یہاں تک کہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔یہ استعارہ اس منشاء کے ادا کرنے کے لئے ہے کہ سلسلہ رجوع خلائق کا کبھی بند نہیں ہوگا اور یہ اس زمانہ کی پیشگوئی ہے جبکہ مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا مگر شاذ و نادر جوصرف چندا بتدائی زمانہ کے تعارف والے تھے۔اور نہ گورنمنٹ کو میری طرف کچھ خیال تھا کہ اس کا اتنا بڑا سلسلہ قائم ہوگا اور نہ اس ملک کے لوگوں میں سے کوئی پیشگوئی کر سکتا تھا کہ یہ غیر معمولی ترقی ایک دن ضرور ہوگی۔مگر یہ خدا کا فعل ہے۔جو باوجود ہزار ہاروکوں کے جو قوم کی طرف سے اور مولویوں کی طرف سے ہوئیں خدا نے میری اِس دُعا کو قبول کر کے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں ہے یعنی رَبّ لَا تَزَرُنِي فَرُداً اپنے بندوں کو میری طرف سے رجوع دیا جب میں نے کہا کہ اے میرے پرودگار مجھے اکیلا مت چھوڑ تو جواب دیا کہ میں اکیلا نہیں چھوڑوں گا اور جب میں نے کہا کہ میں نادار ہوں مجھے مالی مدد دے تو اس نے کہا کہ ہر یک راہ سے تجھے مدد آئے گی اور وہ راہیں عمیق ہو جائیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یوں کی کثرت سے قادیان کی سڑک کئی دفعہ ٹوٹ گئی اس میں گڑھے پڑ گئے اور کئی دفعہ سر کا رانگریزی کو وہ سڑک مٹی ڈال کر درست کرنی پڑی اور پہلے اس سے قادیان کی سڑک کا یہ حال تھا کہ ایک یکہ بھی اس پر چلنا شاذ و نادر کے حکم میں تھا اب ہر یک سال راہ یکوں کے باعث عمیق ہو جاتا ہے اور نیز خدا نے اسی سال میں قریب ستر ہزار کے اس جماعت کو پہنچایا۔کون مخالف ہے جو اس بات کو ثابت کر سکتا ہے کہ جب ابتدا میں یہ وحی نازل ہوئی تو اس وقت سات آدمی بھی میرے ساتھ تھے مگر اس کے بعد ان دنوں میں ہزارہا انسانوں نے بیعت کی۔خاص کر طاعون کے دنوں میں جس قدر جوق در جوق بیعت