اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 613 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 613

613 خاندانی حقوق کے متعلق معجزانہ کامیابی جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا ہے اس خاندان کے تمام افراد با اختیار فوجدار رئیس ہوتے تھے۔حکومت نے یہ دیکھ کر اس طرح خوانین اور والی نواب میں تنازعات ہو جاتے ہیں یہ چاہا کہ آئندہ فوجی اختیارات صرف والئی ریاست کو ہوں اور استمزاج پر نواب صاحب کے والد بزرگوار نے بدیں وجہ اس تجویز سے اتفاق ظاہر کیا کہ آئندہ ریاست حق کے لحاظ سے ان کے ہاتھ میں آنے والی تھی لیکن یہ حق نہ ملا اور خوانین کے حقوق پامال ہونے لگے۔چنانچہ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ والی ریاست نواب ابراہیم علی خاں تو بہت شریف فطرت تھے ان کو نذروغیرہ لینے کا کوئی خیال نہ تھا۔لیکن انکی بیماری کی وجہ سے ان کے ولیعہد ایجنٹ مقرر ہوئے جن کو ریاست کے سپر نٹنڈنٹ نواب لوہارو نے ورغلا کر اس امر پر ابھارا کہ خوانین اسے نذر دیا کریں۔نذر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سال میں ایک بار دربار لگتا ہے اس میں نذر پیش کرنے والا ہاتھ پر اشرفیاں رکھ کر والی کے سامنے پیش کرتا ہے لیکن خوانین اسے مانے کو تیار نہ تھے البتہ اس امر پر رضا مند تھے کہ پیشکش پیش کیا کرینگے پیشکش یہ ہوتی ہے کہ تلوار وغیرہ بہت سی اشیاء گیارہ کشتیوں میں پیش کی جاتی ہیں۔نذر گویا کہ پیشکش سے زیادہ اظہار عجز کا ذریعہ ہوتی ہے اور پیشکش کا درجہ کم ہوتا ہے۔اس وقت جالندھر ڈویژن کا کمشنر جو اس ریاست کا پولیٹیکل ایجنٹ بھی تھا اور الیگزنڈر اینڈرسن لفٹینٹ گورنر پنجاب دونوں اس معاملہ میں خوانین کے خلاف تھے۔اس معاملہ میں کامیابی و نا کا می خوانین کی عزت وذلت کے مترادف تھی۔نواب صاحب نے اپنے دونوں بھائیوں کو حضور سے دُعا کرانے پر آمادہ کیا اور حضور کی خدمت میں دُعا کی درخواست کی ہیں اسبارہ میں جو اپیل دائر کی گئی تھی اس کے متعلق مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب کا ذیل کا بیان اس ضمن میں قابل توجہ ہے کہ کس طرح حضرت نواب صاحب سلسلہ کے خدام کی اعانت کا خیال رکھتے تھے۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب کی ان ایام کی خدمات ہر طرح قابل تعریف تھیں۔میاں صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور یا مولوی محمد علی صاحب نے والد صاحب سے کہا کہ بمقد مہ کرم الدین خواجہ صاحب بہت محنت کرتے رہے ہیں اور بہت سا وقت اس میں انہوں نے لگایا ہے جس کا ان کی پریکٹس پر اثر پڑا ہے اسلئے آپ بمقدمہ نذر ان کی امداد کریں اور اپیل ان سے ہی لکھوائیں چنانچہ محض مدد کی خاطر ان سے اپیل لکھوائی اور والد صاحب نے اپنی طرف سے اور بھائیوں کی طرف سے بارہ