اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 614 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 614

614 اس بارہ میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں : اس طرح کئی دوستوں کے حق میں ان کی مشکلات کے وقت میں بہت نمونے نشانوں کے ہیں اور کچھ ان میں سے میں نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں درج بھی کئے ہیں اور اس جگہ ایک تازہ قبولیت دعا کا نمونہ جو پہلے اس سے کتاب میں نہیں لکھا گیا ناظرین کے فائدے کیلئے لکھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے۔منجملہ ان کے یہ کہ وہ ولیعہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دیئے گئے تھے اور انہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے اپنی دادرسی چاہیں۔اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی کیونکہ ان کے برخلاف قطعی طور پر حکام ماتحت نے فیصلہ کر دیا تھا۔اس طوفانِ غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے انہوں نے صرف مجھ سے دعا ہی کی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا تو قف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کرینگے۔چنانچہ بہت سی دُعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہوا کہ اے سیف اپنا رُخ اس طرف پھیر لے، تب میں نے نواب محمد علی خاں صاحب کو اس وحی الہی سے اطلاع دی۔بعد اسکے خدا تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور صاحب بہادر وائسرائے کی عدالت سے ان کے مطلب اور مقصود اور مراد کے موافق حکم نافذ ہو گیا تب انہوں نے بلا توقف تین ہزار روپیہ کے نوٹ جونذر مقرر ہو چکی تھی مجھے دیدیئے اور یہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا۔۴۲۵ مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں کامیابی پر نواب صاحب کے بھائیوں نے نذرانہ نہیں دیا لیکن نواب صاحب نے ایفائے عہد کیا اور کل رقم نذرانہ اپنی اور بھائیوں والی اپنی طرف سے حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔اس نذرانہ کی رقم کے آخری ہزار کی ادائیگی اور نذرانہ کے ایفاء کا ذکر حضور ذیل کے مکتوب میں فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔یہ عجیب اتفاق ہوا کہ آپ نے ہزار روپیہ کا نوٹ مکرم میاں محمد عبد الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ لارڈ منٹو وائسرائے نے یہ فیصلہ کیا تھا (مؤلف) بقیہ حاشیہ: - صد کے قریب روپیہ دلوایا۔لیکن اپیل اچھی نہ تھی اسلئے دوبارہ ایک انگریز سے بمعاوضہ قریباً اڑ ہائی صد روپیہ لکھوائی۔اور نواب صاحب کے برادران نے اعتراض بھی کیا کہ ایک انگریز نے جب اتنے قلیل معاوضہ پر کام کر دیا تو خواجہ صاحب کو اتنی خطیر رقم کیوں دی گئی تھی۔