اصحاب احمد (جلد 2) — Page 602
602 ۱۸ / دسمبر ۱۹۰۲ء آج میں ( نے ) نماز صبح جماعت کے ساتھ پڑھی۔الحمد للہ علی ذالک۔کوئی آٹھ بجے مفتی محمد صادق صاحب آئے کہ ہم نے بعد میں سوچا کہ مدرسہ کو رخصت بعد امتحان دی جائے تا کہ شامت اعدا نہ ہوا ور تعلیم کا بھی ہرج نہ ہو۔ان کو تین دن کے لئے حسب ان کی درخواست مدرسہ کھولنے اور امتحان ہونے کی اجازت دی۔آج اس وقت اللہ دتا معمار کسی قدرا چھا ہے نماز صبح در بار ونماز عشاء ۶:۱۵ // ۶:۴۵ تک ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء کچھ باور چی بورڈنگ ہاؤس کی شکایت ہوئی تھی۔اس پر ایک روپیہ جرمانہ کیا کیونکہ وہ کھانا اچھانہیں پکا تا۔نماز صبح قرآن شریف نماز جمعه نماز عصر نماز عشاء و دربار ۲۰/ دسمبر ۱۹۰۲ء قرآن شریف نماز عصر نماز عشاء ۶:۴۵ ۸:۴۵ // ۷:۴۵ ۲:۳۰ // ۳:۳۰ // ۸:۳۰ 1:10 // ۷:۳۰ ۳:۳۰ // // ۷ تک تک ہلے معلوم ہوتا ہے بوجہ طاعون مدرسہ میں تعطیلات کرنا مناسب خیال کیا گیا تھا۔مصلحتہ امتحان لے کر تعطیلات کی گئیں۔الحکم بابت ۰۲-۱۲-۲۴ میں مرقوم ہے۔”مدرسہ تعلیم الاسلام سالانہ امتحان کے بعد معمولی رخصتوں کے ساتھ کارڈ نیشن کی تقریب پر تعطیلات کو مل ملا کر ایک ماہ کے لئے بند کیا گیا ہے (صفحہ ۷ )