اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 529 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 529

529 ہو گئے ہیں میں ( نے ان کو مبارک باد دی اور حضرت اقدس نے اس کامیابی کے سلسلہ میں ایک لطیف گفتگو کی۔اس کے بعد حضرت مسجد سے تشریف لے گئے۔میں بھی ڈیرے آیا۔قرآن شریف کا ایک ربع پڑھا اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب مع خواجہ کمال الدین صاحب (و) چند دیگر برادران تشریف لائے۔قرآن شریف کا درس کیا۔پھر مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے۔اور میری نبض دیکھی اور دوائی دی اور مختلف باتیں حضرت اقدس کے متعلق ہوتی رہیں۔پھر میں حضرت کے ساتھ سیر کو گیا۔نماز ظہر پڑھی اور تھوڑا عرصہ حضرت مسجد ( میں) تشریف فرمار ہے۔میں بھی بیٹھا رہا۔اخبار عام پڑھا گیا۔پھر تشریف لے گئے۔نماز عصر پڑھی۔آج بھی میری طبیعت بدمزہ رہی۔عصر کی نماز کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب تشریف لائے اور نماز مغرب تک تشریف رکھتے رہے۔پھر نماز مغرب ( با ) جماعت پڑھی۔نماز عشاء پڑھی۔۱۶ جنوری ۱۸۹۸ء ساڑھے تین بجے اٹھا اور ضروریات سے فارغ ہو کر تہجد پڑھی پھر نماز صبح میں شریک ہوا۔آج خواجہ کمال الدین (صاحب) گھر گئے۔میں نے منصب علی کو بعض کا غذات لانے کے لئے اور اللہ بخش کو بہ سبب کام نہ ہونے کے کوٹلہ روانہ کر دیا۔آج بہ سبب حضرت کے بعد نماز نہ بیٹھنے کے میں چلا آیا۔ایک ربع قرآن شریف کا پڑھا۔میر ناصر نواب صاحب آگئے ان سے باتیں ہوتی رہیں۔اس کے بعد یہ ڈائری لکھ رہا ہوں۔اب پونے نو بجے ہیں۔اس کے بعد حضرت تشریف لائے اور کوئی گیارہ بجے تک تشریف فرمار ہے اور بہت کچھ گفتگو فرمائی۔حضرت کے جانے کے بعد کھانا کھایا پھر ظہر میں شریک ہوا۔بعد نماز ظہر کتاب البریہ دیکھی پھر نماز عصر پڑھی۔اس کے بعد میرے پاس ایک ہم جماعت اور نبیرہ مرزا اعظم * بیگ صاحب تشریف لائے اور نماز مغرب کے قریب تک بیٹھے رہے۔نماز عشاء کے ( بعد ) حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب * وو یہ لطیف تقریر احباب الحکم بابت ۰۱-۶-۲۴ صفحہ ۱ ۲ میں ملاحظہ فرمائیں۔ان کا ذکر ۹۸-۱-۹ کی ڈائری میں ہے۔مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں مرزا اعظم بیگ صاحب ایک مشہور خاندان کے رئیس تھے۔حکومت پنجاب میں وہ اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر اور مہتم بندوبست تھے۔مرزا امام دین ، مرزا نظام الدین صاحبان کی ہمشیرہ ان کے بڑے بیٹے مرزا اکبر بیگ کو