اصحاب احمد (جلد 2) — Page 528
528 اور مولوی نورالدین صاحب بھی۔مختلف گفتگوئیں ہوتی رہیں۔نماز عشاء کے (بعد ) حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے۔اور کوئی نو بجے تک بیٹھے رہے۔میں ( نے ) اپنی طبیعت کا حال بتایا۔کیونکہ میری طبیعت بدمزہ رہی تھی۔اجابت بار بار آتے تھے۔حضرت مولانا نے چند کتا ہیں مجھ کو دیں۔ضمیمه ۱۴ جنوری ۱۸۹۸ء ۱۳۸۵ ☆ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو آج حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم کو الہام ہوا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ اے بجلی ! آسمان سے مت رگر اور غالباً اسی روز فرمایا اس کے ایک دن پہلے کہ ”ہم کو خواب ہوا کہ ہماری جماعت کے ایک شخص کو ہم نے دیکھا لیکن ہم اس کو اس وقت پہچانتا تھا اب یاد نہیں۔ایک سونے کا کنٹھا پہنایا گیا ہے۔میں نے کہا کہ ایک رومال بھی باندھ دو۔اور وہ رومال بھی باندھا گیا۔۱۵/جنوری ۱۸۹۸ء MAY نماز تہجد کے بعد استخارہ کیا کہ آیا مجھ کو حضرت اقدس ( کی ) تائید میں لکھنا چاہئے کہ نہیں اور دوسرے مولوی محمد حسین کے اشتہار کا جواب دینا چاہئے کہ نہیں جس میں انہوں نے ہم چار شخصوں کو مخاطب کیا ہے۔* اس کے ( بعد ) نماز صبح میں شریک ہوا۔صبح اٹھتے ہی مجھ کو خبر ہوگئی تھی کہ خواجہ کمال الدین صاحب پاس اس تاریخ کے ملفوظات الحکم بابت ۷ ارجون ۱۹۰۱ء صفحہ ۴ میں ملاحظہ فرمائیے۔الہام کون کہہ سکتا ہے اے بجلی آسمان سے مت گر الحکم بابت ۰۱-۷-۲۴ صفحہ میں شائع ہو چکا ہے۔کنٹھے والی رو یا غیر مطبوعہ ہے۔بقیہ حاشیہ: - کے وقت وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے یا نا معلوم اسباب کی وجہ سے ساتھ نہ رہ سکے۔مگر میرا مذہب ان کے متعلق یہ ہے کہ وہ نہایت مخلص اور متقی تھے۔پیرانہ سالی کی وجہ سے اور عماید اختلاف کے ساتھ ذاتی تعلقات کی وجہ سے زیر اثر رہے مگر کبھی حضرت امیر المؤمنین کے خلاف ایک لفظ نہ کہا۔ان کا ادب اور ان سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔جلد فوت ہو گئے۔اگر موقعہ ملتا تو وہ ضرور واپس آتے۔ان کا ذکر آئینہ کمالات اسلام اور ضمیمہ انجام آتھم کی فہرستوں میں ۴۹ اور ۲۳۸ نمبروں پر آتا ہے۔* ل مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں۔مولوی محمد حسین نے حضرت نواب صاحب کے ایک خط کا ایک فقرہ کوٹ (quote) کیا تھا جو آتھم کی پیشگوئی کے متعلق نواب صاحب نے لکھا تھا۔“