اصحاب احمد (جلد 2) — Page 521
521 گزرتا یا تبلیغ اور بعض اوقات اہم امور میں مختلف احباب سے تبادلہ خیالات میں۔یہ امور علی العموم جماعتی نظام کے استحکام کے متعلق ہوتے تھے۔مکرم عرفانی صاحب ذکر کرتے ہیں کہ ” مجھ سے علی العموم تعلیمی اور انتظامی امور کے متعلق گفتگو ہوتی۔سلسلہ کی اشاعت اور قومی استحکام کے متعلق آپ کو بڑا درد رہتا تھا اور آپ کی زبر دست خواہش یہ ہوتی تھی کہ حضرت اقدس کے ایام زندگی میں جماعت عملی رنگ میں ایک بلند مقام پر پہنچ جائے۔“ آپ کی ڈائری نویسی سے ایک بات اور ظاہر ہوتی ہے کہ اس میں واقعات کو بالکل صحیح اور سادہ رنگ میں ظاہر کیا ہے تکلف نہیں مثلاً اگر نماز میں دیر ہوگئی تو اس کا اخفاء نہیں کیا گیا جس سے ان کی صداقت پسندی اور محبت صدق کا اظہار ہوتا ہے۔ڈائری سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی آپ کچھ نہ کچھ وقت دیتے تھے۔اس سے ذاتی طور پر بچوں کے رجحان طبیعت اور اخلاق کی درستی میں مدد ملتی ہے۔ڈائری سے آپ کی سیرۃ پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا بالا ختصار ذکر بعد میں آئے گا۔ساری ڈائری یہاں نقل نہیں کی گئی بلکہ ضروری حصص جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان آنے۔مسجد مبارک میں نمازیں پڑھنے۔مجالس میں شامل ہونے اور دیگر ایسی باتوں کا ذکر ہے کہ جن سے کوئی نہ کوئی مفید بات مستنبط ہو سکتی ہے نقل کر دی گئی ہے۔جو حصے ضروری نہیں سمجھے گئے ترک کر دئے گئے ہیں۔البتہ چھوڑے ہوئے مقامات پر بالعموم نقطے نہیں لگائے گئے اور خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔اس تعلق میں خاکسار کے استفسار پر حضرت عرفانی صاحب نے قیمتی نوٹ تحریر کئے ہیں جو حاشیہ میں آپ کی طرف منسوب کر کے درج کئے گئے ہیں۔ممکن ہے بعض دوست تقسیم اوقات وغیرہ کے ذکر کو غیر ضروری خیال کریں لیکن میں نے ضروری اور مفید سمجھ کر ہی درج کیا ہے۔مثلاً حضرت اقدس کے عہد میں رمضان مبارک میں سحری کے بعد اذان صبح کا بعض ایام کا وقت۔نمازوں کا وقت ، حضور کے بین المغرب والعشاء جلسہ ( در بارشام ) کے اوقات۔سیر کے اوقات وغیرہ یہ سب باتیں میری نظر میں حد درجہ مفید ہیں اور سوائے اس ڈائری کے کہیں سے معلوم نہیں ہو سکتیں۔تلاوت ، تہجد اور بچوں کی تعلیم اور بہت سے ایسے امور ا کثر میں نے ترک کر دیئے ہیں۔کہیں کہیں درج کئے ہیں۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے مجھے فرمایا کہ اس عرصہ دربار شام میں میں پانچ سو دفعہ درود شریف پڑھ لیتا ہوں۔صرف اس ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ دربار شام کا عرصہ کتنے وقت پر ممتد ہوتا تھا (۸/ جنوری ۱۸۹۸ء بروز ہفتہ صبح چار بجے کو ٹلہ سے روانہ ہو کر 4 بجے لدھیانہ پہنچے وہاں سے پونے نو