اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 485 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 485

485 جماعت احمدیہ کی اہمیت کی وجہ سے جماعت ہی کے ذمہ معززمہمانوں کی تواضع تھی۔چنانچہ کمشنر صاحب نے دعوت منظور کر لی تھی۔مکرم عرفانی صاحب بیان کرتے ہیں۔پلاؤ زردہ کی دیگیں پکوا کر بھیجی گئی تھیں اور ہر قسم کی رسد، مچھلی ، بکرے وغیرہ حضرت نے فرمایا تھا کہ ان کے جانوروں اور کتوں تک کو کھانا عمدہ دیا جاوے اور جو پکا ہوا کھانا بھیجا جاوے اس میں سے کچھ واپس نہ لایا جاوے۔اس دعوت کی ابتدائی گفتگو خاکسار عرفانی نے مسٹر کنگ ڈپٹی کمشنر سے کی تھی اور بتایا تھا کہ اس خاندان کی عظمت کے خیال سے انگریزی افسران کے مکان پر جا کر ملا کرتے تھے۔اس پر اس نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو بلا کر دریافت کیا اور تسلی کے بعد جب منظور کر لیا تو شیخ رحمت اللہ صاحب اور دو تین اور دوستوں (نے) میرے ساتھ جا کر با قاعدہ دعوت دی اور کنگ صاحب نے شہر آ کر مدرسہ دیکھنے کے بہانے سے آکر اور حضرت سے مل کر دعوت کی قبولیت کا شکر یہ اظہار کیا۔- حضرت خلیفہ اول سے محبت اور آپ کی خدمت اور آپ کی نواب صاحب سے محبت حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد حضرت مولوی صاحب (خلیفۃ المسیح اول) سے حددرجہ الہی محبت تھی۔معلوم ہوتا ہے اس تعلق کی ابتداء تصدیق براہین احمدیہ کے مطالعہ سے ہوئی۔اس سے نواب صاحب کے کئی ایک عقدے حل ہوئے چنانچہ حضورا اپنے مکتوب مورخہ ۱۴ فروری ۱۸۹۱ ء میں حضرت مولوی صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔نواب محمد علی خاں صاحب اب تک قادیان میں ہیں آپ کا بہت ذکر خیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے مولوی صاحب کی کتاب تصدیق دیکھنے سے بہت فائدہ ہوا اور بعض ایسے عقدہ حل ہو گئے جن کی نسبت ہمیشہ مجھے دغدغہ رہتا تھا۔وہ از بس آپ کی ملاقات کے مشتاق ہیں۔میں نے انہیں کہا ہے کہ اب تو وقت تنگ ہے یقین ہے کہ اود ہا نہ میں یہ صورت نکل آئے گی۔یہ شخص جوان صالح ہے حالات بہت عمدہ معلوم ہوتے الحکم بابت ۰۸-۲-۲۶ میں فنانشل کمشنر صاحب کی آمد کے متعلق تفصیل چھپ چکی ہے۔لیکن کتاب ہذا میں بعض باتیں زائد ہیں۔مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس موقعہ پر مختلف جماعتوں کے نمائندوں کو بلایا گیا ( تھا) اور بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ” مجھے مسلم لیگ سے بھی بغاوت کی بو آتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کا یہ ارشاد اس زمانہ کے حالات کے مدنظر تھا۔