اصحاب احمد (جلد 2) — Page 486
486 ہیں۔پابند نماز اور نیک چلن ہے۔اور نیز معقول پسند۔“ 66 ۳۵۷ اس مکتوب کے آخری فقرات ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی حضرت مولوی صاحب اور نواب صاحب میں ملاقات نہیں ہوئی تھی۔بعد ازاں اس تعلق میں زیادتی ہوگئی۔حضرت مولوی صاحب کا علمی تبحر اور اعلیٰ درجہ کا تقوی وطہارت جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں۔چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر یک پُر از نور یقین بودے اثر کئے اور نواب صاحب کو گرویدہ کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔دوسری طرف نواب صاحب کے لوح قلب کے از حد پاک وصاف ہونے کی وجہ سے اس پر حضرت مولوی صاحب کی محبت کے نقوش کچھ اس طرح مرتسم ہوئے کہ مرور زمانہ سے گہرے ہی ہوتے چلے گئے۔اس امر کا ذکر قرآن مجید سے نواب صاحب کے عشق کے ماتحت کیا گیا ہے کہ آپ کی خواہش پر قرآن مجید پڑھانے کے لئے حضور نے حضرت مولوی صاحب کو مالیر کوٹلہ بھجوا دیا تھا۔گویا کہ نواب صاحب اب زانوئے تلمذ تہ کر چکے تھے اور یہ تعلق کسی معمولی علم کے خصوص میں نہ تھا بلکہ کتاب اللہ کی تعلیم و تعلیم کے سلسلہ میں تھا اس لئے بھی نواب صاحب حضرت مولوی صاحب کو اپنے لئے مقام ادب پر سمجھتے تھے اور آپ کی خدمت کو اپنے لئے باعث فخر۔چنانچہ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ خلافت سے قبل حضرت مولوی صاحب کو خطوط میں نواب صاحب ہمیشہ حضرت استاذی المکرم والمعظم سے خطاب کرتے تھے۔نواب صاحب نے حضرت مولوی صاحب کے کھانے کا انتظام اپنے ذمہ لینا اپنے لئے فخر سمجھا لیکن حضرت مولوی صاحب کی غیور طبیعت کسی کا بار احسان اپنے ذمہ لینے کے لئے تیار نہ تھی۔حضرت مولوی صاحب نے جن حالات میں قادیان ڈیرہ جمالیا تھا اس کا اندازہ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب کے بیان سے ہوتا ہے وہ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب جب ریاست کشمیر سے فارغ ہو کر آئے تھے تو آپ بہت مقروض تھے۔مجھے حضرت میر محمد الحق صاحب نے آپ کی حالت کا ذکر ان الفاظ میں سنایا کہ پہلی بار آپ نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے پانچ روپیہ کی قسط روانہ کی تو قرض خواہ نے قرض کی رقم خطیر کے بالمقابل اتنی قلیل قسط دیکھ کر لکھا کہ کیا آپ نے مجھ سے تمسخر کیا ہے۔تو آپ نے جواب لکھا کہ اس وقت میرے پاس اتنی ہی رقم تھی جو میں نے روانہ کر دی۔قرض آپ کا میرے ذمہ ہے اور میں ہی اسے ادا کروں گا۔آپ فکر نہ کریں۔اس سے آپ کی غیور فطرت کا علم ہوتا ہے۔اس لئے نواب صاحب نے ایک ہی راہ کھلی پائی کہ اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت حاصل کر لیں جس کے بعد حضرت