اصحاب احمد (جلد 2) — Page 431
احمد بیت میں داخل نہ ہوا۔431 ہمشیرہ بوفاطمہ بیگم صاحبہ کا قبول احمدیت محترمہ بوفاطمہ بیگم صاحبہ نواب صاحب سے چار سال بڑی تھیں اور نواب ابراہیم علی خاں صاحب والی مالیر کوٹلہ کے چھوٹے بھائی نواب عنایت علی خاں صاحب سے بیاہی ہوئی تھیں۔مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ۔بوصاحبہ کے بطن سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی گو ایک دوسری بیگم کے بطن سے دولڑ کیاں ہوئیں لیکن اولاد نرینہ سے محروم رہنے کے باعث ان کی طبیعت پر ایسا اثر تھا کہ دنیاوی امور سے کنارہ کش ہو گئے تھے اور مجھے میر عنایت علی صاحب رضی اللہ عنہ نے سنایا تھا کہ جب حضرت اقدس ۱۸۸۴ء میں مالیر کوٹلہ محترمہ فضیلت بیگم صاحبہ والدہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب کی استدعا پر جو کہ جھل ریاست پٹیالہ کے ایک راجپوت خاندان سے تھیں۔تشریف لے گئے تو حضور سکندر منزل کی طرف ملاقات کے لئے جارہے تھے کہ سامنے سے نواب عنایت علی خاں صاحب نے دیکھ لیا جو کہ گھوڑے پر سوار آرہے تھے دور سے ہی یہ دیکھ کر بہت سے لوگ آرہے ہیں انہوں نے گھوڑ الوٹا لیا اور پھر دوسری طرف سے چکر کاٹ کر آئے اور قاضی خواجہ علی صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ آئے ہیں۔قاضی صاحب کے ایجاب میں جواب دینے پر نواب صاحب نے کہا کہ پھر میرے لئے بھی ان کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کریں۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف نواب ابراہیم علی خاں بلکہ نواب عنایت علی خاں میں بھی سعادت تھی اور انہوں نے کسی مرحلہ پر بھی احمدیت کی مخالفت نہیں کی ، اور ان کی اہلیہ بوصاحبہ بالآخر حلقہ بگوش احمد بیت ہو گئیں۔قبول احمدیت پر جو مکتوب ان کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا۔کتاب کے آخر پر انشاء اللہ اس کا چربہ دے دیا جائے گا۔بوصاحبہ کے متعلق مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہمشیرہ سب بھائیوں سے زیادہ ہمارے والد صاحب سے محبت کرتی تھیں۔اس محبت کا یہ نتیجہ نکلا کہ وفات سے ایک دو سال قبل انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو مالیر کوٹلہ بلایا، والد صاحب وہیں تھے چنانچہ کئی دن کے مباحثہ کے بعد نہ صرف والد صاحب کے تقویٰ وطہارت کو دیکھ کر اور نہ صرف محبت کی بناء پر بلکہ پوری تحقیقات کی بناء پر اور بعض خوابوں کی بناء پر انہوں نے بیعت کی اگر چہ ظاہری علم سے بے بہرہ تھیں لیکن بہت سمجھ دار اور دانا خاتون تھیں خاوند کی بیماری کی وجہ سے تمام گھر کے انتظام وہ خود کرتی تھیں۔جائیداد کورٹ آف وارڈ ہی تھی دواڑ ہائی ہزار روپیہ ماہوار ملتے تھے نہایت قابلیت سے اس کام کو سرانجام دیتی تھیں۔“