اصحاب احمد (جلد 2) — Page 397
397 نواب صاحب ان دونوں سے ہمیشہ شفقت سے پیش آتے رہے۔میاں نور محمد حضرت اماں جان (اطال الله بقاء ہا) کے گھر لیمپ جلاتے ہوئے پیٹرول سے آگ لگنے سے فوت ہو گئے تھے اور ان کی بیوہ نہایت بے کسی کی حالت میں پیچھے رہ گئی تھی۔جس کی پرورش حضرت اماں جان بھی کرتی تھیں لیکن نواب صاحب کو بھی ہمیشہ اس بقیہ حاشیہ: - بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم محجبی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔تمام خط میں نے پڑھا۔اصل حال یہ ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ صرف اس بناء پر تھا کہ نور محمد کی بیوی نے میرے پاس بیان کیا کہ نواب صاحب میرے خاوند کو یہ تنخواہ چار روپیہ کوٹلہ میں بھیجتے ہیں اور اس جگہ چھ روپیہ تنخواہ تھی اور روٹی بھی ساتھ تھی اب ہماری تباہی کے دن آگئے اس لئے ہم کیا کریں۔یہ کہہ کر وہ روپڑی میں یہ تو جانتا تھا کہ اس تنزل تبدیلی کے کوئی اسباب ہوں گے اور کوئی ان کا قصور ہو گا۔مگر مجھے خیال آیا کہ ایک طرف تو میں نواب صاحب کے لئے پنجوقت نماز میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی پریشانی دور کرے اور دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شکایت ہے کہ ہم اب اس حکم سے تباہ ہو جائیں گے تو ایسی صورت میں میری دعا کیا اثر کرے گی۔گو یہ سچ ہے کہ خدمت گار کم حوصلہ اور احسان فراموش ہوتے ہیں۔مگر بڑے لوگوں کے بڑے حو صلے ہوتے ہیں۔بعض وقت خدا تعالیٰ اس بات کی پروا نہیں رکھتا کہ کسی غریب نادار خدمت گار نے کوئی قصور کیا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ صاحب دولت نے کیوں ایسی حرکت کی کہ اس کی شکر گزاری کے برخلاف ہے اس لئے میں نے اپنے دل میں آپ کو ان کی دلی رنجش کے برے اثر سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو لکھا تھا ور نہ میں جانتا ہوں کہ اکثر خدمت گاراپنے قصور پر پردہ ڈالتے ہیں اور یوں ہی واویلا کرتے رہتے ہیں اس وجہ سے میں نے مہمان کے طور پر اس کی بیوی کو اپنے گھر رکھ لیا تا کوئی امرایسا نہ ہو کہ جو میری دعاؤں کی قبولیت میں حرج ڈالے اور حدیث شریف میں آیا ہے ارحموا فِي الْأَرْضِ تُرحَمُوا فِي السَّمَاء - زمین میں رحم کرو تا آسمان پر تم پر رحم ہو۔مشکل یہ ہے کہ امراء کے قواعد انتظام قائم کرنے کے لئے اور ہیں۔اور وہاں آسمان پر کچھ اور چاہتے ہیں۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ مرزا غلام نوٹ۔مکتوب نمبر ۸۸۔یہاں حضرت نواب صاحب کے ہاں سے حاصل کردہ نقل سے درج کیا گیا ہے (مؤلف)