اصحاب احمد (جلد 2) — Page xliv
۳۲ مولوی کرم دین صاحب نے ان الفاظ کے خلاف گورداسپور میں حضرت احمد اور حکیم فضل دین صاحب کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کیا جس میں آریہ مجسٹریٹ نے حضرت احمد کو پانچ صدر و پید اور حضرت حکیم فضل دین صاحب کو دوصد روپیہ جرمانہ کیا۔جہلم والے مقدمہ میں مولوی کرم دین کو پچاس روپیہ اور فقیر محمد کو چالیس روپیہ جرمانہ ہوا۔اپیل امرتسر میں دائر ہوئی کرم دین اور فقیر محمد کا جرمانہ بحال رہا۔حضرت احمد قادیانی اور حکیم فضل الدین صاحب کا جرمانہ معاف ہوا، اور مولوی کرم دین کے حق میں الفاظ کذاب ولیم اور مہمین بحال رہے ہیں میں امید کرتا ہوں کہ اس غلطی کی اصلاح کر لی جائے گی۔“ نواب صاحب کا شہر والا مکان صفحہ ۱۳۹ پر جو کچھ میں نے اس کے وقوع کے متعلق لکھا ہے اس بارہ میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں: محترم حضرت نواب صاحب کا اندرون شہر مکان الدار میں شامل ہے کیونکہ (۱) وہ افتادہ حصہ مکانات بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حصہ میں آیا ہوا تھا اور (۲) الدار کی ڈیوڑھی کے بالمقابل جانب شرق واقع تھا (۳) اس جگہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ (ابتدائی زمانہ غالباً ( 9 ) میں حضور کا لنگر خانہ بھی رہا ہے اور آثار سے پتہ چلتا ہے کہ کسی وقت یہ حصہ مکانات افتادہ حضور پُر نور کا خاندانی دیوان خانہ تھا۔(۴) صحن حضرت نواب صاحب کے اس مکان کا بھی یقیناً الدار میں شامل تھا ( عبدالرحیم صاحب سوڈا واٹر کی دکان اور اس کے ملحقہ کچھ حصہ کی جگہ پہلے حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے رہائشی مکان حضور نے بنوایا تھا جس کے جنوبی حصہ کی طرف چھوٹا سا صحن تھا اور اس میں ایک پودا ئد کا بھی تھا۔الدار کی ڈیوڑھی کے سامنے مشرق میں جو کوچہ ہے اور وہ مکرم حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے مکانات دیوان خانہ اور مشہور روایت والا کنواں اور شرقی صحن وغیرہ کی طرف جاتا ہے۔اس کو چہ کے شرق اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکانات رہائشی کے جانب غرب کی ساری زمین سیدنا حضرت اقدس نے حضرت نواب صاحب کو رہائش کے لئے مکان بنانے کو دیدی تھی اور اس پر حضرت نواب صاحب نے کچے اور خام عمارت کے کوارٹرز بنائے تھے بعد میں موجودہ پختہ عمارت تیار کر والی تھی۔