اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xlv of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xlv

٣٣ مزید بابت فونوگراف ص ۴۷۴ تا ص ۴۸۰ پر فونوگراف سے تبلیغ کا ذکر ہے: اس بارہ میں مزید الحکم بابت ۱ نومبر ۱۹۰۱ء ( ص ا کالم ۱ ) میں مرقوم ہے ( یہ کلمات طیبات حضور نے اس کتوبر کوفرمائے تھے ) حضرت اقدس حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے ، راستہ میں فونوگراف کی ایجاد اور اس سے اپنی تقریر کو مختلف مقامات پر پہنچانے کا تذکرہ ہوتا رہا۔چنانچہ یہ تجویز کی گئی کہ اس میں حضرت اقدس کی ایک تقریر عربی زبان میں بند ہو جو چار گھنٹہ تک جاری رہے اور اس تقریر سے پہلے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تقریر ایک انٹروڈ کٹری نوٹ کے طور پر جس کا مضمون اس قسم کا ہو کہ انیسویں صدی مسیحی کے سب سے بڑے انسان کی تقریر آپ کو سنائی جاتی ہے جس نے خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعوی کیا ہے اور جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام سے دنیا میں آیا ہے اور جس نے ارضِ ہند میں ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور جس کے ہاتھ پر ہزاروں تائیدی نشان ظاہر ہوئے خدا تعالیٰ نے جس کی ہر میدان میں نصرت کی ، وہ اپنی دعوت بلا دا سلامیہ میں کرتا ہے۔سامعین خود اس کے منہ سے سن لیں کہ اس کا کیا دعویٰ ہے۔اور اسکے دلائل اس کے پاس کیا ہیں۔اس قسم کی ایک تقریر کے بعد پھر حضرت اقدس کی تقریر ہوگی اور جہاں جہاں یہ لوگ جائیں اسے کھول کر سناتے پھریں۔“ رض بابا عبدالکریم صاحب عطار ( متعلق ص ۵۱۰) حضرت عرفانی صاحب دو خطوط میں تحریر فرماتے ہیں: عبدالکریم عطار اور عبدالکریم ولد مولا بخش جدا جدا ہیں۔عبدالکریم عطار بعد میں بابا عبدالکریم مشہور ہوا۔بڑا خوش الحان اور لال سوداگر تھا۔اللہ تعالیٰ اسے اپنے قرب میں جگہ دے۔“ عرف عام میں لال سوداگر اسے کہتے ہیں کہ موقعہ اور وقت کے لحاظ سے جس قسم کی تجارت ممکن ہو کر لے، کسی خاص تجارت کا کرنے والا نہ ہو، وہ عطار تو تھے مگر کبھی لوئیاں کوٹ وغیرہ لے آتے۔“