اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 380 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 380

380 حضرت اقدس کے مقام کے متعلق نواب صاحب کا بیان خلافت سے منحرف ہونے والے احباب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام کا استخفاف کیا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا حضور نبی نہ تھے اسکے وجوہات کیا تھے ، ان کے بیان کا یہ موقعہ نہیں۔البتہ یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ نواب صاحب کا کیا عقیدہ تھا۔چنانچہ اس بارہ میں ڈاکٹر حسن علی صاحب غیر مبائع کے خط کے جواب میں جو کچھ آپ نے رقم فرمایا اسے الفضل بابت ۴۳ - ۷-۲۱ سے درج ذیل کیا جاتا ہے اس لئے آپ کے ایمان و عرفان کے اعلیٰ مقام کا بھی علم ہوتا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں : ذیل میں ڈاکٹر صاحب کا خط بھی نقل کیا جاتا ہے تا کہ سوال کی وضاحت سے جواب بھی واضح طور پر سمجھ میں آسکے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم محترمہ قبلہ نواب محمد علی خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔جناب من ! نہایت ہی مودبانہ گذارش ہے کہ سلسلہ احمدیہ عالیہ میں بفضل خدا نہ صرف جناب پرانے صحابی مسیح موعود علیہ السلام ہیں بلکہ حضور کی دامادی کا فخر بھی جناب کو حاصل ہے۔سلسلہ کی مالی اعانت کے علاوہ آپ جماعت میں صائب الرائے بزرگ ہیں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ازالہ اوہام مطالعہ کی ہے اس کے حصہ دوم میں حضور علیہ السلام نے جناب کی ذیل عبارت لکھی تھی۔ابتدا میں گو میں آپکی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائح ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا نہ انکار پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے ہیں تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب تقریباً اگست میں آپ سے لدھیانہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کا رنگ پھر بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بکلی دھویا گیا اور جب یہ اطمینان دیا گیا کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسرشان نہ کرےسلسلہ بیعت میں داخل ہو سکتا ہے تب میں نے آپ سے بیعت کر لی اور اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پا تا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔مجھ کو آپ کے اخلاص اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مجدد دنیا کے لئے رحمت ہیں“۔