اصحاب احمد (جلد 2) — Page 379
379 یعنی حضرت میاں صاحب (خلیفہ مسیح الثانی ) سب احمد یوں میں سے زیادہ اس مسلہ کو سمجھنے کا حق رکھتے تھے اور اس کے سمجھانے میں مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کا حضرت میاں صاحب سے اس کے سمجھنے میں کم قابل ہونا عیاں ہوتا ہے۔مذکورہ بالا کوائف سے ظاہر ہے کہ اس وقت حالات کس قدر بھیانک تھے۔چنانچہ اسی وجہ سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالے نے اعلان فرمایا گو اس وقت چند ممبران مجلس معتمدین نے تقریر وتحریر کے ذریعہ یہ بات اپنے ہم خیالوں میں پھیلانی شروع کی ہے کہ وہ قادیان چندہ نہ بھیجیں کہ اس میں ان کے اموال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے لیکن چونکہ خود صدر انجمن احمدیہ نے مجلس کی حیثیت سے میری کسی قسم کی مخالفت اب تک نہیں کی اس لئے میں نہیں چاہتا کہ انجمن کے چندوں میں کسی قسم کی رکاوٹ ہو۔بہت سے احباب خطوط کے ذریعہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم چندوں کا کیا کریں آیا انجمن کو بھیجیں کہ نہ بھیجیں ، ان سب دوستوں کی اطلاع کے لئے ایسا ہی ان دوسرے احباب کی اطلاع کے لئے جو میرے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں اس اشتہار کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں کہ چندے برابر صدر انجمن میں آنے چاہیئں ہاں چونکہ ابھی تک مجھے اطمینان نہیں کہ انجمن اس موجودہ فتنہ میں کیا حصہ لے گی۔اس لئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ انجمن کے سب چندے میری معرفت ارسال ہوں میں انہیں خزانہ صدر انجمن میں داخل کرا کے انجمن کی رسید بھجوا دوں گا۔ایسے مقامات جہاں کے سیکرٹری یا محاسب نے ابھی تک بیعت نہیں کی وہاں یہ انتظام ہوسکتا ہے کہ اگر محاسب یا سیکرٹری اس انتظام کو قبول کر لیں تو فبہاور نہ ان کی بجائے کوئی اور شخص مقرر کر دیا جائے جو مبائعین کا چندہ وصول کر کے بھیج دیا کرے۔صدرانجمن سے استعفاء چونکہ خلافت اولی میں صدرانجمن کے بعض سرکردہ ممبروں نے فتنہ برپا کیا اور انہوں نے اثر ورسوخ سے جماعت کو بدراہ کرنا اور اس کا شیرازہ منتشر کرنا چاہا انہوں نے خلافت ثانیہ کو قبول نہ کیا۔ان امور کا حضرت نواب صاحب کے دل و دماغ پر نہ صرف گہرا اثر پڑا بلکہ یہ اثر اس قدر مستولی رہا کہ آپ خائف تھے مبادا پھر فتنہ برپا ہو۔چنانچہ آپ نے یہ مناسب جانا کہ اس سے الگ ہو جائیں تا کہ اگر ایسی صورت ہو تو آپ ایسی مشینری کا کل پرزہ نہ ہوں جو جز و یا کلاً نظام خلافت کی مخالفت پر آمادہ ہو۔چنانچہ آپ ۱۵ / فروری ۱۹۱۸ ء کو مستعفی ہو گئے۔سچ ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک کر پیتا ہے۔بہر حال اس استعفیٰ میں بھی اخلاص اور خشیت الہی کا رنگ تھا۔