اصحاب احمد (جلد 2) — Page 363
363 میں شعائر اسلام کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔آپ نے لکھا ہے کہ بطور پریذیڈنٹ خلیفہ رہے۔آپ نہیں جانتے کہ انجمنوں میں پریذیڈنٹ کی کیا وقعت ہے؟ سرد دل سے غور فرمائیں۔یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انجمن رہے گی اور ضرور رہے گی۔کوئی شخص با وجود اس اختیار (کے ) کہ انجمن کو توڑ سکے بہ سبب اس ارادت کے جو مسیح موعود سے ہر فرد کو ہے۔خصوصاً ان کی اولا د کوکس طرح ممکن ہے کہ اس پیارے کی قائم کردہ چیز کو بر با دکر دے مگر ہم اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ سات آدمیوں کا نام انجمن ہے اور جوان کی مخالفت کرے وہ انجمن کا مخالف ہے۔رہی تیسری بات کہ میاں صاحب مداہنت سکھاتے ہیں۔وہ مداہنت نہیں سکھاتے بلکہ وہ ادب سکھاتے ہیں جس پر چل کر صحابہ کامیاب ہوئے اور جس کو مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح علیہ السلام نے سکھلایا۔آپ کا یہ تحریر فرمانا کہ میں میاں صاحب کی خدمت میں عرض کروں میں تو جب عرض کروں جب میں نے میاں صاحب کو خلیفہ بنایا ہو۔جس کو خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کو وہی کہہ سکتا ہے آپ خدا وند تعالیٰ سے عرض کریں میں نے مفصل لکھ دیا ہے کہ خدا کرے کہ مفید ہو۔محمد علی خاں ( مکرر ) بعض لوگوں کو یہ شک بھی ہورہا ہے کہ حضرت مولانا نورالدین صاحب کی خلافت کے وقت اختلاف نہ تھا اور اب اختلاف تھا۔اصل میں بعض دفعہ انسان غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے اور اس کو یاد نہیں رہتا۔حضرت مولانا مرحوم کے وقت بھی یہ اندیشہ تھا کہ لوگ الوصیت کے سمجھنے میں دھوکے میں نہ پڑیں۔اور جہاں چالیس آدمیوں کا کسی پر حسن ظن ہو وہاں بیعت کر لیں اس لئے یہ ضروری ہوا کہ اس کا موقعہ نہ دیا جائے۔اور اس وقت ملہمین سے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک خائف تھے اور انہی کی زبان بندی کے لئے حقیقۃ الوحی لکھی گئی تھی۔چنانچہ بعد میں کئی شخصوں نے قدرت ثانی کا دعوی کیا اور اب تک مدعی ہیں۔پس جس طرح اس وقت ایک مسلک میں منسلک کرنے کی ضرورت بہت جلد تھی اسی طرح اس وقت بھی ضرورت تھی۔مولوی محمد علی صاحب نے یہ جو لکھا ہے کہ خواجہ صاحب کے پوچھنے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کہا تھا کہ کیا ہوا جو بہت سے خلیفے یا بیعت لینے والے ہو جائیں گے میں ان اوقات میں موجود تھا۔اور بلکہ اب جلسہ خاص میں مجھ کو مخاطب ہو کر مولوی محمد علی صاحب ( نے) کہا کہ آپ بھی (یعنی خاکسار ) اس وقت تھے مگر جہاں تک مجھ کو یاد ہے ہرگز میرے سامنے ایسا تذکرہ نہیں ہوا۔یہ بالکل غلط بات ہے ہاں ہم سوچا کرتے تھے کہ اس طرح فتنہ ( کا اندیشہ ہے اور اسی لئے بہت جلد حضرت مولانا مرحوم پر سب جمع ہو گئے۔شیخ صاحب! اس وقت دراصل یہ لوگ خلافت کو ہی اڑانا چاہتے تھے۔ان کی نیت اگر نیک ہوتی تو یہ اگر میاں صاحب سے اختلاف رکھتے تھے تو بجائے اس کے (کہ) ادھر ادھر کے حیلے کرتے صاف لکھتے