اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 358 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 358

358 کی بھی کیا وقعت ہوسکتی ہے۔اور پیغام صلح نے یہ غلط لکھا ہے کہ میاں صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو تقریر سے روک دیا اور میں حلفاً کہتا ہوں کہ میاں صاحب بولے تک نہیں اور میں بالکل ان کے قریب بیٹھا تھا۔یہ ہیں کل واقعات جو میں نے عرض کر دئے ہیں۔اب تھوڑا میں اور عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام یعنی مولا نا مولوی نورالدین صاحب مرحوم مغفور نے اپنی وصیت میں لکھا ہے کہ آپ کا جانشین عالم باعمل ہو۔متقی اور ہر دلعزیز ہو۔میں نے وصیت سناتے وقت اسی لئے علماء کے گروہ کو اپنے قریب کر لیا تھا علماء تمام متفق اللفظ تھے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ ہوں اور جب میں نے کہا کہ کون خلیفہ ہو تو سب طرف سے سوائے میاں صاحب کے کسی اور شخص کے لئے آواز نہیں آئی۔اور پھر مولوی احسن صاحب نے میاں صاحب کو پیش کیا۔عام رائے اس طرح اس وقت میاں صاحب کی جانب تھی کہ مولوی صاحب کی تقریر پوری ختم بھی نہیں ہوئی کہ لوگ بیعت کے لئے آگرے اب یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ صحابہ میں بھی انتخاب خلفاء مرکز کے لوگ بقیہ حاشیہ: - قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشوره معتمدین صدر انجمن احمد یہ موجودہ قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود و به اجازت حضرت ام المؤمنین کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی۔والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شرفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے۔مولانا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب،صاحبزاده بشیرالدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خاں صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب وخاکسار خواجہ کمال الدین ) موت اگر چہ بالکل اچانک تھی۔اور اطلاع دینے کا بہت ہی کم وقت ملا۔تاہم انبالہ، جالندھر، کپورتھلہ ، امرتسر ، لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد، جموں، گجرات، بٹالہ، گورداسپور مقامات سے معزز احباب آگئے۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ ایک کثیر جماعت نے قادیان اور لاہور میں پڑھا۔حضرت قبلہ حکیم الامت سلم کو مندرجہ بالا جماعتوں کے احباب اور دیگر کل حاضرین قادیان نے جن کی تعدا داو پر دی گئی ہے بالاتفاق خلیفہ اسی قبول کیا۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامتہ خلیفہ امسیح والمہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔“