اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 351 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 351

351 تضرع اور رقت اہل مجلس پر طاری تھی۔اس کے بعد میں نے میاں صاحب سے عرض کی کہ اب ہم سب کو جمع ہو کر مناسب تجویز کرنی چاہئے۔میاں صاحب نے فرمایا کہ میرے سر میں درد ہے میں ذرا تھوڑی دور پھر آؤں جب سب آجا ئیں مجھ کو بھی بلا لیا جائے۔میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب و مولوی محمد علی صاحب وڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب و مولوی شیر علی صاحب و مولوی صدرالدین صاحب کی طرف آدمی بھیج دیا۔شیخ صاحب نے کہلا بھیجا کہ مولوی محمد علی میاں صاحب سے گفتگو کرنے جاتے ہیں ) اس کے بعد ہم سب آجائیں گے۔پھر میں خود شیخ صاحب کے پاس چلا گیا تو انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب میاں صاحب سے گفتگو کرنے گئے ہیں۔ممکن ہے کہ ان دونوں کی گفتگو ہی (سے) تمام اختلاف جاتا رہے۔اس لئے میں بھی وہاں کھڑا ہو گیا اور میاں صاحب اور مولوی صاحب الگ ٹہلتے ہوئے تنہائی میں گفتگو کرتے رہے۔مغرب کے وقت وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے میاں صاحب نے آکر فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو ہوئی ہے اور وہ وہی بات کہتے ہیں جو چوہدری عبد اللہ خاں صاحب نے آکر بیان کی تھی اور اب میں تصفیہ کر کے آیا ہوں کہ مولوی صاحب بجائے خود اپنے احباب سے مشورہ کریں اور میں اپنے احباب سے مشورہ کروں اور ہم سوچیں کہ کہاں تک ہم اپنے خیالات چھوڑ سکتے ہیں اس لئے اب مشورہ کرنا چاہئے۔چنانچہ بعد مغرب قریب پچاس آدمیوں کو بلایا گیا۔اور چونکہ مولوی محمد علی صاحب اور میاں صاحب کا باہمی تصفیہ ہوا تھا کہ احباب کے مشورہ کو عام نہ کیا جائے اس لئے میرے مکان میں علیحدہ جگہ یہ مشورہ ہوا اور سب کے سامنے میاں صاحب نے پیش کیا کہ میری اور مولوی صاحب کی گفتگو ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ” خلیفہ۔اول تو ہونا نہ چاہئے اور اگر ہو تو تمام احمد یوں کو اس کی بیعت نہ کرنی ہو۔یعنی جو پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام مرحوم کی بیعت کر چکے ہیں وہ دوبارہ اب نئے خلیفہ کی بیعت نہ کریں۔اور مسئلہ کفر و اسلام میں خلیفہ ہمارے سد راہ نہ ہو یعنی ہمارے خیالات کے اظہار میں روک نہ ڈالے۔اور کم از کم میں ( مولوی محمد علی صاحب) تو بیعت نہ کروں گا۔اس پر میاں صاحب نے فرمایا کہ خلیفہ ہونا ضروری ہے اور چونکہ میرا اعتقاد ہے کہ خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اس لئے میں اس پر متفق نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ میرا یہ بھی اعتقاد ہے کہ خلیفہ مشروط نہیں ہوسکتا بلکہ خلیفہ مقتدر چاہئے تا کہ فتنہ کے وقت وہ اپنے اختیارات سے فتنہ کو روک سکے۔اس لئے اس پر بھی میں متفق نہیں ہو سکتا۔رہے اختلافی مسائل اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں اختلافات ہمیشہ سے رہے اور رہتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب نے کہا پھر مہلت کافی ہونی چاہئے کم از ( کم ) پندرہ ہیں روز اس پر میاں صاحب نے فرمایا کہ خلافت مقتدر ہونی چاہئے اور ضرور ہونی چاہئے۔اور خلیفہ دوم قبل از دفن خلیفہ اول منتخب ہو جانا چاہئے۔اور یہی میرا اعتقاد ہے