اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 352 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 352

352 اس پر مجھ کو اصرار ہے اختلافی مسائل ان امور پر سد راہ نہیں ہو سکتے۔مسئلہ کفر پر اختلاف حضرت خلیفۃ السیح مرحوم کے وقت میں بھی رہا ہے اور وہ خلیفہ بھی رہے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ نہیں جلدی نہیں چاہئے کافی وقت ملنا چاہئے تا کہ شوری سے خلیفہ مقررہو۔میاں صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا کے دفن پہلے جس قدر مشورہ ہونا ہو ہو جائے اور حضرت خلیفہ اسی مرحوم نے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ( السلام) کی وفات پر اس پر زور دیا تھا۔کیونکہ خلیفہ کی ہر وقت ضرورت ہے۔اگر ہم کو یہ علم ہو کہ مولوی صاحب مرحوم فلاں کام کیا کرتے تھے اور اس میں خلیفہ کی ضرورت تھی یا کوئی خاص کام آج سے چھ ماہ کو پیش آنے والا ہے کہ جس میں خلیفہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ چلو چھ ماہ انتظار کر لو۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کوئی ایسا امر ہے اور ہم کو علم ہے اس وقت خلیفہ کی ہم کو ضرورت نہیں چند روز بعد ہوگی ؟ تو پھر بیشک انتظار ممکن ہے اس پر مولوی محمد علی صاحب نے فرمایا کہ ایسا تو نہیں۔پھر میاں صاحب نے فرمایا کہ نظام سلسلہ کے لئے پھر ایک منٹ بھی بلا خلیفہ درست نہیں پس خلیفہ دوم خلیفہ اول کے دفن سے پہلے مقرر ہو جانا چاہئے۔اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے کہا مسئلہ کفر و اسلام کا ضرور تصفیہ ہو جانا چاہئے اور بیعت پر ہم کو مجبور نہ کیا جائے (جس پر اسی طرح کوئی دو گھنٹہ دونوں میں گفتگو رہی جس کا یہ اوپر خلاصہ ہے ) میاں صاحب نے فرمایا کہ آخر یہ تصفیہ ہوا ( کہ ) احباب سے مشورہ لیا جائے جس پر آپ صاحبوں کو تکلیف دی گئی ہے اب آپ تصفیہ کریں کہ ہم کہاں تک اپنا خیال چھوڑیں اور کہاں تک نہیں۔اس پر متفق اللفظ سب نے یہ تصفیہ کیا کہ۔خلیفہ بلا شرط ہونا چاہئے۔اس کی بیعت ہر احمدی پر واجب ہے اور سب کا یہ مطاع ہوگا۔چنانچہ ایک کاغذ پر مندرجہ ذیل عبارت لکھی جا کر دستخط کئے گئے۔بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ نحمده ونصلى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم اللهُمَّ صِلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلَّم ’ہم سب اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اقرار کرتے ہیں کہ ہم سب کے نزدیک حضرت خلیفتہ المسیح کا جانشین ایک شخص ہونا ضروری ہے اور اس کی بیعت کرنی ہر ایک احمدی پر واجب ہے۔اور ہمارے نزدیک اس خلیفہ سے کسی قسم کی شرائط طے کرنا جوحضرت خلیفہ اسی اول کی خلافت کے وقت طے نہیں کی گئیں بالکل جائز نہیں۔بلکہ اس کی بیعت اسی طرح ہوگی جس طرح صحابہ نے کی یا جس طرح خلیفہ اسی اول کی بیعت کی گئی۔جو کوئی بھی خلیفہ مقرر ہو وہ کل جماعت اور صدرانجمن کا مطاع ہوگا اور سب جماعت کو اس کے احکام کی اطاعت کرنی ضروری ہوگی۔“ اب یہ قرار پایا کہ صبح مولوی ( محمد ) علی سے میاں صاحب اس تصفیہ کے متعلق گفتگو کریں گے اور پھر جو فیصلہ ہوگا اس پر کارروائی ہوگی۔صبح تین بجے ایک ٹریکٹ میاں صاحب کو ایک شخص نے دیا کہ یہ تمام 66