اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 348 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 348

348 کہ وصیت میں حضرت مولانا مرحوم نے اپنی بیوی کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔آپ کے جانے کے بعد کے واقعات حسب ذیل ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام مرحوم مغفور دن بدن نهایت کمزور ہوتے گئے اور جہاں تک میرا خیال ہے علاج میں بھی وہ توجہ نہیں رہی۔خوراک نہایت ہی کم ہو گئی۔سوائے چند تولہ کے غذا نہیں ملتی تھی۔اس پر بہت کچھ گفت وشنید ہوئی ایک اطباء کی کمیٹی بیٹھی اور چند نسخے تجویز ہوئے۔مگر حضرت کو غالبا یہ ادویات نہیں ملیں۔منگل یا بدھ سے یعنی وفات سے دو تین روز قبل حضرت موصوف کو قے شروع ہوگئی اور بدھ سے پیچکی بھی شروع ہوگئی۔اب اور بھی زیادہ ضعف ہو گیا ادھر عیادت کے لئے مہمان بہت آئے اور لوگ اضطراب سے آئندہ واقعات پر تشویش ظاہر کرنے لگے۔جہاں چار آدمی اکٹھے ہوئے اور مسائل اختلافی پر بحث شروع ہوگئی۔حضرت صاحبزادہ صاحب اور ہم بھی اضطراب سے سوچنے لگے اور جب کوئی صورت اصلاح نظر نہ آئی کیونکہ ایسی افواہیں اڑیں کہ بیرونجات سے لوگ بلائے جار ہے ہیں۔چنانچہ آدمیوں سے معلوم ہوا کہ وہ سیکرٹری صاحب کے بلانے پر آئے ہیں۔پھر میر عابد علی شاہ صاحب اور چوہدری عبداللہ خاں صاحب نمبر دار نے آکر بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے وڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب سے گفتگو ہوئی۔انہوں نے صاف کہا کہ ہم اول تو خلیفہ ہی پسند نہیں کرتے اور اگر خلیفہ ہو بھی تو اس سے شرائط طے کی جائیں گی اور یہ اطلاع انہوں نے تحریراً بھی بطور شہادت ہم کو دے دی اور یہ واقعہ کوئی پانچ چھ روز قبل از وفات حضرت کا تھا۔ان امور سے سخت تشویش ہوئی اور ادھر دیکھا کہ لوگ مختلف طور پر کج بحثیاں کرتے ہیں۔اس لئے میاں صاحب نے سب احباب کو کہا کہ دعا سے کام لیا جائے کہ خداوند تعالیٰ حضرت مولانا کو شفاء دیدے اور اگر اس کی مثیت میں حضرت موصوف کا وقت ہی آگیا ہے تو خدا وند تعالیٰ تفرقہ سے قوم کو بچائے اور کوئی مناسب خلیفہ عطا کرے۔اس پر تمام احباب نے بدھ کی اور جمعرات کی مشترکہ رات کو اٹھ کر دعائیں کیں۔صبح کے وقت میاں صاحب کو تحریک ہوئی کہ اختلافات کو سر دست چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ بعد نماز صبح مجھ سے تنہائی میں فرمایا کہ میرا منشاء ہے کہ چونکہ اس وقت دو مختلف خیال کے لوگ موجود ہیں ہر ایک فریق یہ سمجھتا ہے کہ اگر ہمارے خلاف خیالات کا خلیفہ ہوا تو پھر ہماری خیر نہیں اس لئے رفع فتنہ کے لئے ہم ایسے شخص (کو) خلیفہ منتخب کریں جس کو دونوں طرف قریباً ارادت ہو۔اور انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں سید حامد شاہ صاحب بقیہ حاشیہ: - حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا بیان ہے کہ یہ اصل وصیت اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے پاس ہے اسے دیکھ کر اصل الفاظ معلوم ہو سکتے ہیں۔لیکن وہ مجھے دستیاب نہیں ہوسکی۔( احباب اس کا چربہ صفحہ ۳۶۶-۳۶۷ پر ملاحظہ فرمائیں) (مؤلف)