اصحاب احمد (جلد 2) — Page 318
318 چکنا چور کر دے گا۔اللہ رحم کرے۔تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے نیک ظنی کی ، نیک ظنی کی تعلیم دیتے دیتے بدظنی کی کوئی انتہاء نظر نہیں آتی۔ایک شیعہ کی وجہ سے سلسلہ کی تباہی۔اللہ رحم کرے۔یا الہی ہم گنہگار ہیں تو اپنے فضل و کرم سے ہی ہمیں بچا سکتا ہے اپنی خاص رحمت میں لے لے اور ہم کو ان ابتلاؤں سے بچا لے۔آمین۔اور کیا لکھوں بس حد ہورہی ہے وقت کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص تائید الہی ہوتا کہ یہ اس کا سلسلہ صدمہ سے بچ جاوے۔آمین۔“ اس فتنہ صماء کے وقت جس کا مختصر ذکر آپ سابقہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں جہاں ایسے فتنہ ساز اور اختلاف پرور لوگ جماعت میں موجود تھے وہاں حضرت رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بروز علیہ السلام کی جماعت میں مخلصین کی بھی کمی نہ تھی بلکہ اکثر حصہ مخلصوں پر ہی مشتمل تھا اور انہیں اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کی آگ سے اپنے فضل سے ہر طرح مامون ومصنون رکھا۔ان بہی خواہان خلافت کی صفت اول میں حضرت نواب صاحب بھی تھے۔جنہوں نے استحکام خلافت کے لئے پوری سعی کی۔یہ امر حضرت خلیفتہ المسیح اول پر واضح تھا اور اسی لئے حضور نواب صاحب کی قدر فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شیخ رحمت اللہ صاحب تا جر لا ہور سے ان کی عمارت کا سنگ بنیا درکھنے کا وعدہ تھا۔جس کے ایفاء کی خاطر باو جود علالت کے حضرت خلیفتہ اسیح اول لا ہور تشریف لے گئے وہاں آپ نے ایک تقریر میں فرمایا :۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہنچاتے ہیں۔تم ان سے بچو۔پھر سُن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین ہے۔“ اب سوال ہوتا ہے کہ خلافت حق کس کا ہے؟ ایک میرا نہایت ہی پیارا محمود ہے جو میرے آقا اور محسن کا بیٹا ہے۔پھر دامادی کے لحاظ سے نواب محمد علی خاں کو کہہ دیں پھر خسر کی حیثیت سے ناصر نواب کا حق ہے یا ام المومنین کا حق ہے جو حضرت صاحب کی بیوی ہیں۔یہی لوگ ہیں جو خلافت کے حق دار ہو سکتے ہیں۔“ مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو لوگ خلافت کے متعلق بحث کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ان کا حق کسی اور نے لے لیا وہ اتنا نہیں سوچتے کہ یہ سب کے سب میرے فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ میرے سامنے پیش نہیں کیا۔“ ہر دو خطوط آئینہ صداقت ۲۴ تا ۱۶۶ میں مندرج ہیں۔