اصحاب احمد (جلد 2) — Page 316
316 مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیدا ہو گیا تھا۔نواب صاحب کے پاس صاحبزادہ صاحب گھنٹوں یہاں دار السلام آکر اس فتنہ کے متعلق باتیں کرتے تھے۔پھر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی معیت میں ۱۹۱۳ء میں شملہ آئے۔تو وہاں بھی نواب صاحب سے اس بارہ میں بہت لمبی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔اس وقت صرف یہی خیال تھا کہ کسی طرح فتنہ دب جائے اور جماعت میں زہر یلا مواد پیدا نہ ہو۔لوگوں کے ایمان سلامت رہ جائیں اور وہ صحیح عقائد پر قائم رہیں۔کسی خاص خلافت کا وہم و گمان بھی اس فکر کے سامنے نہ آ سکتا تھا نہ آتا تھا۔فریق مخالف کو ناحق کی بدظنی حسد کی بناء پر تھی۔ایک خلیفہ کی زندگی میں ایسی بات زبان پر لانا ویسے بھی نواب صاحب کو اچھانہ لگتا تھا (ن) مولوی محمد علی صاحب کے متعلق نواب صاحب کے بیان کی تصدیق مولوی عبدالرحیم صاحب نیز کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔فرماتے تھے کہ بیعت کر کے نیچے اترتے ہی مولوی محمد علی صاحب نے خواجہ صاحب کو کہا کہ آج ہماری سخت ہتک کی گئی ہے میں اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ہمیں مجلس میں جو تیاں ماری گئی ہیں۔چنانچہ چند روز بعد حضرت صاحبزادہ صاحب کی موجودگی میں مولوی صاحب کا پیغام حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں آیا کہ وہ قادیان سے جانے کا ارادہ کر چکے ہیں کیونکہ ان کی بہت ہتک ہوئی ہے۔تعجب کہ بعد ازاں خواجہ صاحب نے اپنی کتاب میں اس بیعت کو بیعت ارشاد اور علامت تقرب اور عزت افزائی قرار دیا اور یہ بھی تحریر کیا کہ اس موقعہ پر حضرت صاحبزادہ صاحب اور حضرت نواب صاحب سے بھی بیعت لی گئی تھی حالانکہ یہ امر خلاف حقیقت ہے۔خُفیہ ریشہ دوانیاں اب ان لوگوں نے ظاہری مخالفت ترک کر کے خفیہ ریشہ دوانیوں کی راہ اختیار کر لی۔چنانچہ صدر انجمن کے معاملات میں جہاں کہیں حضرت خلیفہ امسیح اول کے کسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں کبھی حضرت خلیفتہ المسیح نہ لکھا جاتا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یوں سفارش کی ہے اس لئے ایسا کیا جاتا ہے تا کہ صدر انجمن کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ بھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔پھر مولوی حکیم مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کے مکان کی فروخت کا معاملہ اٹھنے پر انجمن کی ان کا رروائیوں کے سلسلہ میں بلی کے بھاگوں چھینکاٹو ٹا کی مثال پیدا ہوگی۔اس کی تفصیل تو آگے آئیگی اور ان واقعات سے پتہ لگے گا کہ اس مکان کی فروخت کی آڑ لیکر حضرت خلیفتہ المسیح اول پر قومی مال کے نقصان کا الزام پیدا کرنا چاہتے تھے تا کہ لوگوں میں بد عقیدگی پیدا ہو۔کبھی کوئی الزام دیا جا تا اور کبھی کوئی اور علی الاعلان لاہور میں یہ ذکر اذکا رہتے