اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxxvi of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxvi

۲۴ -1 کچھ غلط ہوا ہے وہ میں بعد میں ذکر کرونگا پہلے قاضی صاحب کے بیان کی اصلاح کرتا ہوں۔میں نے قاضی صاحب کے خط پر نمبر دیدیئے ہیں تا کہ اصل بات آسانی سے سمجھ میں آجاوے۔“ - مکرم قاضی صاحب کو سخت مغالطہ ہوا ہے۔کرم دین کے خطوط قادیان آئے تھے ان میں پیر گولڑوی کی کتاب سیف چشتیائی کی قلعی کھولی گئی تھی کہ یہ کتاب کرم دین کے بہنوئی فیضی کی یاداشتوں سے مُرتب کی گئی ہے۔اسکے ثبوت میں گولڑوی کے خط وغیرہ قادیان بھیجے تھے۔وہ خطوط میں نے الحکم میں غالباً اکتو بر۱۹۰۲ء یا آخری سہ ماہی کے قریب شائع کر دیئے جس سے گولڑوی پر لازمی اثر پڑا۔انہوں نے کرم دین کو اکسایا ان خطوط کا تذکرہ حضرت نے اپنی کتاب میں بھی کیا جو چھپ رہی تھی۔کرم دین نے جہلم میں رائے سنسار چند کی عدالت میں مجھ پر اور حکیم فضل الدین (صاحب) اور حضرت صاحب پر مقدمہ کیا۔اس مقدمہ کی پیشی پر حضرت مواہب الرحمن شائع کر کے لے گئے تھے۔مقدمہ قانونی پوائنٹ پر خارج ہو گیا کہ اسے حق نہیں۔ہم سب باعزت بری ہو گئے۔۲- مواہب الرحمن کے الفاظ کذاب اور لئیم کی بناء پر کرم دین نے گورداسپور مقدمہ کیا ازالہ حیثیت عرفی کا۔اور میں نے سراج الاخبار جہلم کے ۶ اور ۱۳ اکتوبر کی اشاعتوں کی بناء پر جن میں کہا گیا تھا کہ ایڈیٹر الحکم نے جعلی خطوط بنائے ہیں وغیرہ ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ گورداسپور میں دائر کیا۔حضرت اقدس نے ان مقدمات کے انجام کے متعلق پیشگوئی شائع کی جور یو یو اور ہمارے اخبارات میں شائع ہو چکی تھی قبل از وقت۔اور الہام ہوا تھا ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون - اس پیشگوئی کی بناء پر فقیر محمد اور کرم دین پر جرمانہ ہوا۔اس کی اپیل ہو ہی نہیں سکتی تھی۔حجر مانہ قائم رہا اور کرم الدین کے مقدمہ میں پانچسو روپیہ حجر مانہ ہوا جو امرتسر کے ڈویژنل جج نے واپس کیا اور کرم الدین کے خلاف فیصلہ کیا کہ وہ اس سے بھی زیادہ الفاظ کا مستحق تھا۔مکرم ماسٹر ( ملک۔مولف) مولا بخش صاحب نے جو بیان دیا ہے اس میں صفحہ ۱۳۳ ، سطر ، ادا ہو گیا تک درست ہے۔مگر اس کے بعد ہی حضور کو ایک اور فوجداری مقد مہ۔۔۔جہلم جانا پڑا غلط ہے خلط ہو گیا ہے میاں عزیز اللہ کا واقعہ بھی صحیح ہے مگر وہ امرتسر کا نہیں خود قادیان ہی کا ہے۔باقی ملک صاحب امرتسر میں مترجم تھے یہ درست ہے اور جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے صحیح ہے یہ حقیقت ہے ( ڈاکٹر ) بشارت احمد (صاحب مصنف مجدد اعظم) نے اس خصوص میں صحیح واقعات لکھے ہیں اور اخبارات میں شائع شدہ ہیں۔الحکم ۱۹۰۲ء کی آخری سہ ماہی اکتو بر۱۹۰۲ء اور شروع ۱۹۰۳ء میں سفر جہلم کے واقعات درج ہوں گے۔