اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xxxv of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxv

فرماتے ہیں کہ (۱) غالبا ۹۲ء میں میں مولوی محمد صادق صاحب مولوی فاضل اور خان بہادر غلام محمد صاحب کے ہمراہ قادیان آیا اسوقت ان دونوں نے بیعت کی۔اور ہم قادیان سے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے ہمراہ لاہور گئے اور پھر قادیان آئے۔(ص ۷ ) اس ضمن میں آپ مہدی والے واقعہ کا ذکر نہیں فرماتے۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس لاہور سے پھر سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے۔(۲) پھر آپ ان دونوں اصحاب کی بیعت کے لئے قادیان آنے کا زمانہ غالباً ۱۸۹۱ء کا دسمبر کا مہینہ تحریر کر کے فرماتے ہیں کہ ہم حضور علیہ السلام کے ہمراہ قادیان سے لاہور آئے۔پہلے حضور میراں بخش کی کوٹھی پر اترے اور پھر اور مکان لیا گیا۔حضور کی تشریف آوری پر بڑا شور مچا۔یہاں حضرت مفتی صاحب مہدی والے واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں ساتھ ہی لاہور میں اپنے قیام کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ ہم صرف ایک یا دو دن وہاں رہ کر چلے گئے اور حضرت صاحب بہت دن لاہور ٹھہرے۔“ ( صفحہ ۱۹ ،۲۰) (۳) حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس جنوری ۹۲ء میں لا ہور تشریف لے گئے اور وہاں مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضور کا مباحثہ ہوا اور اسی سفر میں حضور نے کوٹھی میراں بخش پر قیام فرمایا تھا نہ کہ دسمبر ۹۱ء میں۔(دیکھئے اشتہارات بابت ۲۸ /جنوری ۳۰ / فروری ۹۲ (۴) نیز یہ واقعہ مہدی والا چونکہ حضرت مفتی صاحب ان دو اصحاب مذکورہ بالا کی بیعت کے معاًبعد کے سفر لاہور کے وقت کا بیان فرماتے ہیں اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ بیعت کس وقت کی ہے۔ان دونوں کی بیعت ۲۰ جنوری ۱۸۹۲ء کی ہے ( رجسٹر بیعت ) اور حضوڑ کے ہمراہ لاہور میں صرف ایک یا دو دن تک حضرت مفتی صاحب اپنا قیام کرنا ذکر فرماتے ہیں (۵) مکرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مرزا ایوب بیگ صاحب کے حالات والے مسودہ میں جو ابتداء 1911ء میں تحریر کیا تھا ( اصحاب احمد جلد اول صفحہ ۶۳ حاشیہ ) ڈاکٹر صاحب بھی مہدی والے واقعہ میں شیخ رحمت اللہ صاحب کا ذکر نہیں کرتے۔سوان تمام قرائن سے حضرت عرفانی صاحب کی روایت قرین صحت معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔صحیح بابت مقدمه کرم دین جلد اول کے صفحہ ۱۳۳ پر بمقدمہ کرم دین جو کچھ درج ہے اس بارہ میں حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پراونشل امیر صوبہ سرحد نے ایک تصحیح ارسال کی تھی جو افسوس کہ اسوقت مل نہیں سکی۔میں نے حضرت عرفانی صاحب کی خدمت میں ارسال کی تھی تا اس بارہ میں کتاب میں جو غلطی ہوئی ہو اسکی تصحیح ہو سکے۔حضرت عرفانی صاحب نے اس بارہ میں تحریر فرمایا ہے: ’ آپ کے خط پر میں نے اصحاب احمد کا صفحہ ۱۳۳ دیکھا اسکے واقعات صحیح ہیں مگر