اصحاب احمد (جلد 2) — Page xxxiv
۲۲ مکتوباب احمدیہ حضرت عرفانی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکتوبات کی کئی جلد میں شائع کر کے تاریخ سلسلہ کا ایک بیش بہا خزانہ محفوظ کر دیا ہے۔اس سلسلہ میں خاکسار بھی ایک جلد غیر مطبوعہ مکتوبات کی شائع کر رہا ہے۔چونکہ یہ مکتوبات حد درجہ بوسیدہ ہو رہے ہیں اس لئے چربے بھی دیئے جائیں گے۔یہ کتاب انشاء اللہ تعالی جلسه ۵۲ء پر احباب تک پہنچ سکے گی۔اسی کتاب میں یا الگ کتاب میں بعض صحابہ کرام کے مکتوبات بھی درج کئے جائینگے بالخصوص ایسے مکتوبات کا چربہ جن سے بعض غیر مطبوعہ الہامات کا علم ہوتا ہے یا ان کی تاریخ نزول کی تعیین ہوتی ہے۔وبا الله التوفيق۔بابت عرض حال جلد اول صفحه ۲۲۰ ۱۰-۵۰-ے کو جو نقشہ کے متعلق نشاندہی کی گئی تھی اس میں سہوا حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا نام درج ہونے سے رہ گیا۔دراصل یہ سب انتظام انہی کی طرف سے تھا اور خیمہ گاہ اور جنازہ گاہ کی نشاندہی میں انہی نے زیادہ اہم حصہ لیا تھا۔ایک روایت کے بارہ میں اصحاب احمد جلد اول حاشیہ صفحہ ۷۷، ۷۸ پر ایک روایت شائع ہوئی ہے اسکے متعلق حضرت عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: مہدی کے حملہ کے وقت صحیح یہ ہے کہ سید فصیلت علی شاہ مرحوم نے اسے پکڑا تھا مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کا یہ واقعہ نہیں۔میں اسوقت وہاں موجود تھا۔یہ واقعہ جمعہ کی نماز کے بعد ہوا تھا اور یہ فروری ۱۸۹۲ء کی بات ہے۔“ خاکسار نے اس بارہ میں دوبارہ حضرت مفتی صاحب سے استفسار کیا تو آپ نے تحریر فرمایا :۔مجھے یہ بات یقینی طور پر یاد ہے کہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا جو تھا اس کو یقیناً شیخ رحمت اللہ صاحب نے ہٹایا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں۔میں وہاں موجود تھا۔“ ہر دو روایات درج کر کے خاکسار عرض کرتا ہے کہ اصل واقعہ کے بارہ میں جہاں تک قرائن کا تعلق ہے حضرت مفتی صاحب کو ذہول ضرور ہوا ہے اور وہ قرائن یہ ہیں۔(۱) حضرت مفتی صاحب ذکر حبیب میں تحریر