اصحاب احمد (جلد 2) — Page 279
279 آپ چند منٹ کے لئے کسی وقت آسکیں تو گفتگو ہو جائے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد نواب صاحب کی طرف سے دوبارہ تحریک اور اس کی قبولیت ایک سال تک اس بارہ میں خموشی رہی جس کے بعد حضرت نواب صاحب نے پھر تحریک کی اور ذیل کا عرضیہ تحریر کیا: بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضرت خلیفتہ المسیح مکرم معظم سلمکم اللہ تعالئے السلام علیکم۔حضور کو یاد ہو گا ایک درخواست بدین مضمون کہ اگر میرے بیٹے عبداللہ خاں کا رشتہ عزیزی امتہ الحفیظ سے منظور فرمایا جائے تو عنایت سے بعید نہ ہوگا جس پر از راہ کرم حضور نے تحریر فرمایا تھا ( کہ ) بوجوہ چند در چند سر دست یہ معاملہ ملتوی رہنا چاہئے۔جب مناسب وقت ہوگا تو اول آپ کو ترجیح دی جائے گی میں حضور کے فرمانے کے بموجب خاموش تھا۔مگر چونکہ مجھ پر اکثر ہموم و غموم کا وفور رہتا ہے اور صحت بھی اچھی نہیں رہتی اور رہی سہی امید کو منذ رخوابوں نے توڑ دیا ہے جس سے دنیا سے طبیعت سرد معلوم ہوتی ہے اور زندگی کا بھروسہ کم۔پس اگر میری حیات میں یہ کام ہو جائے تو کم از کم ایک لڑکے سے تو میں بے فکر ہو جاؤں۔آج کل امتحان دینے کی وجہ سے لڑکے فارغ بھی ہیں اگر ان ایام فراغت میں حضور یہ رشتہ منظور فرما کر نکاح کر دیں تو عنایت ہو اور پھر عبداللہ کم از کم پابند تو ہو جائے گا۔تو دیع بعد بلوغ ہو سکتی ہے۔امید ہے کہ حضور میری اس درخواست کو منظور فرمائیں گے۔محمد علی خاں نواب صاحب کی تحریک کو شرف قبولیت بخشا گیا چنانچہ حضرت خلیفہ اسی الثانی ایده ال تعال نے تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم امتہ الحفیظ اس وقت بہت کمزور اور کم عمر ہے اس لئے ابھی تین سال تک وہ رخصت ہونے کے نا قابل ہے۔اس لئے اگر آپ اور میاں عبداللہ خاں اس بات پر راضی ہوں کہ رخصت کرنا تین سال تک ہمارے اختیار میں ہوگا اور یہ کہ مہر اسی طرح جس طرح عزیزہ مبار کہ بیگم کو کھا گیا تھا لکھا جائے گا۔گو مقدار کم مثلاً پندرہ ہزار ہو تو یہ رشتہ ہمیں منظور ہے۔موخر الذکر شرط صرف حضرت صاحب کی احتیاط کے مطابق ہے۔دوم جب لڑکی رخصت ہو تو الگ مکان میں الگ انتظام میں رہے۔کیونکہ بصورت دیگر بہنوں میں اختلاف کا خطرہ ہوتا ہے۔خاکسار مرزا محمود احمد اس خط کا جواب آج ہی مل جانا چاہئے۔