اصحاب احمد (جلد 2) — Page 280
280 نواب صاحب نے جوا با عرض کیا: دار السلام دارالامان قادیان ۱۴ جون ۱۹۱۵ء بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضرت خلیفۃ امسیح علیہ السلام سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔حضور کا والا نامہ پہنچا۔محمد عبد اللہ خاں کو بھی دکھلا دیا ہم دونوں کو حضور کی شرائط ہرسہ گا نہ میں کوئی عذر نہیں۔مہر ۱۵۰۰۰ روپے منظور۔الگ مکان سے عذر نہیں کیونکہ قرآن شریف سے اشارہ معلوم ہوتا ہے تین سال تک تو دیع نہ تو یہ بھرنا نا قابل پذیرائی نہیں۔حضور کو تو یہ لکھنا ہی مناسب نہ تھا کیونکہ میرے سابقہ عمل کے حضور واقف پھر بہ سبب رشتہ داری اور دینی یعنی حضور مخدوم ہیں اور عبداللہ خادم حضور پیر ہم مرید۔اس لئے حضور کوئی ایسا معاملہ کر ہی نہیں سکتے کہ ایک فریق کا نفع اور دوسرے کا نقصان ہو۔پس جیسے حضور اس طرف ذمہ دار اور وکیل و مربی۔اسی طرح اُس طرف بھی۔پھر میں اپنے اوپر کیوں رکھوں میں حضور ہی کے سپر د کرتا ہوں کہ جو حضور مناسب تصوؤ رفرما ئیں مجھ کو اس میں کوئی عذر نہیں۔حضور تین سال پانچ بعد تو دلع تصور فرمائیں الفاظ پڑھے نہیں گئے۔ناقل ) یہ * بعد بلوغ تو دیع مناسب تصؤ ر فرما ئیں عین مقصود ہے۔ایک احاطہ مکان جد امناسب تصوّ ر فرما ئیں۔یہ قبول۔بالکل جدا تصور فرمائیں۔وہ مناسب۔خلاصہ یہ کہ جو آپ مناسب تصور فرمائیں۔وہ ہی مناسب۔پس آپ ہی اس طرف سے وکیل ، ذمہ دار، مربی ، ولی ،سب کچھ، میں حضور ہی پر چھوڑتا ہوں۔میں نے نہ مبارکہ بیگم صاحبہ کے موقع پر عذر کیا نہ اب۔حضرت نے ایک سال فرمایا وہ منظور کیا۔پانچ سال کہا اس سے انکار نہیں کیا۔ایک سال فرما یا اس سے منہ نہ پھیرا۔تین دن فرمایا نہایت شکریہ سے قبول کیا۔بس اب حضور جو کچھ مجھ کو کہنا چاہیں خود ہی میری جانب سے اپنے ارشاد کا جواب دیں۔کیونکہ میں حضور کی رائے کے خلاف عذر ہی نہیں کرتا۔* اعلان نکاح محمد علی خاں اس نکاح کا اعلان سے رجون ۱۹۱۵ء کو مکرم مولا نا مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے مسجد اقصیٰ میں فرمایا اس موقعہ پر آپ نے جو خطبہ پڑھا ذیل میں ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھ کر الفاظ پڑھے نہیں گئے۔ناقل نکاح کے متعلق حضور ایدہ اللہ نے تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم مکتر می نواب صاحب السلام علیکم۔آپ کا خط مل گیا چونکہ ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں اس لئے بہتر