اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 265 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 265

بسم الله الرحمن الرحيم 265 سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالے۔السلام علیکم۔میری اپنی رائے تو یہی تھی کہ حضور ہی کوئی مہلت معقول عطا فرما دیتے۔مگر حضور ( نے مجھ پر چھوڑا تو یہ امر زیادہ ذمہ داری کا ہو گیا اس لئے جہاں حضور نے یہ عنایت فرمائی ہے اتنی مہربانی اور ہو کہ میں ایک ماہ کے اندر سوچ کر عرض کر دوں کہ میں کب تک رخصتانہ کا انتظام کر سکتا ہوں۔اس کی صرف یہ ضرورت ہے کہ میں انتظام میں لگا ہوں۔پس اس عرصہ میں مجھ کو انشاء اللہ تعالیٰ ٹھیک معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر عرصہ میں انتظام مکمل ہو جائے گا۔حضور بھی دعا فرما ئیں کہ میں اس میں کامیاب ہوں میں آج کل ہر طرح کی ابتلاؤں (کے ) نرغے میں ہوں۔راقم محمد علی خاں مکرر۔اس عرصہ بعد مجھ کو جتنی مہلت کی ضرورت ہوگی عرض کر کے تاریخ مقرر کر دوں گا۔باقی اختیار اللہ تعالیٰ کے ہیں وہی سامان کرنے والا ہے حضور کی دعا کے ہم سب ہر وقت محتاج ہیں۔اس بارہ میں حضور نے فرمایا: محمد علی خاں السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مجھے منظور ہے۔امید ہے آپ ایک ماہ کے بعد مطلع فرمائیں گے۔والسلام والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ یادداشت - ۱۰ارز دالحجه ۱۳۲۵ء مطابق ۱۵ جنوری ۱۹۰۸ء مرزا خدا بخش صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات عرض کئے اور دقتیں سروست زینب کے رخصت کرنے میں تھیں، ان کو عرض کیا۔اس پر زبانی مرزا صاحب مذکور یعنی مرزا خدا بخش، یہ معلوم ہوا کہ حضرت اقدس نے ان تمام امور کو سُن کر ایک سال کی مہلت عطا فرمائی ہے۔پس زینب کا رخصتانہ ایک سال کو ہو گا۔فقط محمد علی خاں حضرت مرزا شریف احمد کی شادی جس خوف کا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا وہ وقوع پذیر ہوا۔اور یہ رخصتانہ حضور کے عہد مبارک میں تو نہ ہوسکا بلکہ 9 مئی ۱۹۰۹ء کو ہوا۔اس بارہ میں معزز بدر قمطراز ہے : قران السعدین۔برادران سلسلہ احمدیہ کو معلوم ہے کہ صاحبزادہ شریف احمد کا نکاح خان محمد علی خاں