اصحاب احمد (جلد 2) — Page 250
250 کہ آج مبارکہ بیگم صاحبہ صاحبزادی صاحبہ کلاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جن کا نکاح مجھ سے ۱۷ فروری ۱۹۰۸ء کو بروز شنبہ ہوا تھا۔رخصت ہو کر میرے گھر آئیں اور میرے کلبۂ احزان کو منور کیا۔یہ رخصتانہ بوقت تین بجے وقوع میں آیا۔میں نے ان میں حسن صورت و حسن سیرت دونوں کا پایا۔لیاقت علمی بھی خاصی ہے الحمد الله علی ذالک۔یہ خدا کا عجیب فضل ہے کہ میرے جیسے ناکارہ کے ساتھ اس درج برج نبوت سے میرا پیوند کر دیا ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم رخصتانه نهایت سیدھی سادی طرز سے ہو ا مبارکہ بیگم صاحبہ کے آنے سے پہلے مجھ کو حضرت ام المومنین علیہا السلام نے فہرست جہیز بھیج دی اور دو بجے حضرت ام لمومنین علیہا السلام خود لے کر مبارکہ بیگم صاحبہ کو میرے مکان پر ان سیڑھیوں کے راستہ سے جو میرے مکان اور حضرت اقدس کے مکان کو ملحق کرتی تھیں تشریف لائیں۔میں چونکہ مسجد میں تھا اس لئے اُن کو بہت انتظار کرنا پڑا۔اور جب بعد نماز میں آیا تو مجھ کو 66 بلا کر مبار کہ بیگم صاحبہ کو بایں الفاظ نہایت بھری آواز سے کہا کہ ”میں اپنی یتیم بیٹی کو تمہارے سپر د کرتی ہوں۔“ اس کے بعد ان کا دل بھر آیا اور فور اسلام علیک کر کے تشریف لے گئیں۔۱۵/ مارچ ۱۹۰۹ء دوشنبه آج میں نے تمام احمدی بھائیوں کو جو قادیان میں ہیں۔اور بعض عمائد قصبہ کو دعوت ولیمہ دی ہے مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ میں نے شادی محض خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی اور حضرت اقدس کے تعلقات کے بڑہانے کے لئے کی مگر خداوند تعالیٰ نے ماسوائے اس کے مجھ پر بہت فضل کئے حسب کے لحاظ سے مبار کہ بیگم صاحبہ بیٹی ہیں حضرت اقدس کی۔ایک معزز قوم مغل برلاس سے اور پھر اناث کی جانب سے دو داد یال حضور ممدوح کی سیدانی تھیں اور آپ حضرت ام المومنین علیہا السلام جو والدہ مبارکہ بیگم صاحبہ ہیں سیدانی ہیں۔میر ناصر نواب صاحب کی بیٹی ہیں جو نبیرہ خواجہ میر درد صاحب ہیں۔اس طرح مبارکہ بیگم صاحبہ کا ددھیال اور نھیال دونوں آفتاب و ماہتاب ہیں۔اور احمدیوں میں تو اس سے معزز گھرانا نہیں ہو سکتا اور فی الواقعہ دنیا بھر میں بسبب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی گھرانہ نہیں کہ ایسا خدا کے نزدیک معزز ہو۔پھر صورت کے لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے بھی حالت معزز ہے اور سیرت کے لحاظ سے کس باپ کی بیٹی ہیں پس نہایت پیارا انداز اور عجیب دلکش طبیعت ہے محبت کرنے والی بیوی ہیں۔پھر مجھ کو کیوں محبوب نہ ہوں خدا وند تعالیٰ ہمارے بہت ہی بڑے تعلقات کر دے اور غایت درجہ کا عشق آپس میں پیدا کر دے اور بہت بڑی مدت تک خداوند تعالیٰ ہم کو نیکی محبت اور عزت آبر و صحت اور خوشی و خوش حالی اور دین کی خدمت میں اکٹھارکھے۔آمین۔