اصحاب احمد (جلد 2) — Page 233
233 ساتھ ۱۷ار فروری کو ہونا ذکر کیا گیا تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے خطبہ نکاح میں کیا خوب فرمایا تھا بقیہ حاشیہ : - وقت کے لئے بھی ایک حصہ عربی کا رکھا ہے۔ایسا ہی خطبہ نکاح جو جوانوں بڑھوں کے لئے لازمی ہے اس میں عربی کا ایک حصہ رکھا ہے۔بنوامیہ نے عربی زبان کی وسعت اور حفاظت میں بڑی کوشش کی کہ انہوں نے اپنی سلطنت میں اس کو مادری زبان بنا دیا۔یہاں تک کہ الجزائر۔مارکش فارمس میں اس کو مادری زبان ہی بنا دیا۔مشرق میں البتہ یہ وقت رہی کہ درباری زبان ( فارسی ) کو بڑہاتے بڑہاتے اصل زبان کا درس تدریس مشرق سے مفقود ہو گیا۔میں نے بارہا کوشش کی ہے کہ اگر عام مسلمان اور خاص کر ہمارے امام کی جماعت روز مرہ کے کاموں کے الفاظ کو یاد کر لے تو اسے قرآن شریف کا ایک حصہ یاد ہو جاوے لیکن افسوس سے کہا جاتا ہے کہ اس طرف بہت کم توجہ ہے اور جو یہاں رہتے ہیں وہ بھی پوری توجہ نہیں کرتے لغات القرآن جو یہاں چھپی ہے ایک مفید اور عمدہ کتاب ہے جو بڑی محنت سے لکھی گئی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ حضرت امام نے بھی اس کی تعریف کی ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی اس کتاب سے فائدہ اٹھایا جاوے تو قرآن شریف میں سمجھنے میں بڑی مددملتی ہے غرض قرآن مجید کی حفاظت کا ایک ذریعہ عربی زبان کی حفاظت بھی ہے۔اور اس طرف مسلمانوں کو توجہ کرنی چاہئے اور خصوصاً ہماری جماعت کو بہت متوجہ ہونا چاہئے۔میں نے اس نکاح کی تقریب پر اسی سنت متوارثہ پر عمل کرنے کے لئے عربی زبان میں خطبہ پڑھا ہے۔مگر طرفین ہی ایسے ہیں کہ نہ خطبہ سننے کی ضرورت نہ کہنے کا موقعہ ایک طرف حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ان کو ہم سنانے نہیں آئے بلکہ ان سے سننے آئے ہیں پس اگر میں تصریح کروں تو میر انفس مجھے ملامت کرتا ہے آج جو کچھ میں عرض کروں گا یا کہا ہے یہ محض حضرت امام کے حکم کی تعمیل ہے۔عربی زبان کی تائید میں اس لئے کہا ہے اس متوارث سنت کو تمہارے کانوں تک پہنچاؤں جس سے رسول کی زبان محفوظ رہے اور تم قرآن کریم کی ارفع اطیب زبان میں ترقی کرو۔اب اس کے بعد میں ان آسان کلمات کا آسان ترجمہ سناتا ہوں جو ابھی میں نے پڑھے ہیں۔اللہ جل شانہ چونکہ ربّ ہے بے مانگے اس نے نعمتیں دی ہیں اور پھر مقدرت قوت اور استطاعت بھی اس نے دی ہے اور اس امکان سے جو يُمَكِّنَنَّ میں وعدہ دیا ہے۔اس قدرت سے جو پاک نتیجے مترتب ہوں اس کے فضل سے ہوتے ہیں ہاں اسی کے فضل سے ہوتے ہیں اس کی ربوبیت عامہ۔رحم فضل وسیع اور بلا مبادلہ ہے اور وہ رحم جو بالمبادلہ ہے وہ مالکیت چاہتی ہے۔ان سب نوازشوں اور مہر بانیوں پر نگاہ کر کے بے اختیار دل سے نکلتا ہے۔الحمد اللہ۔یعنی سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔مومن تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتا ہے