اصحاب احمد (جلد 2) — Page 232
232 اسی طرح دوسری جگہ مرقوم ہے۔مبارک گذشتہ ہفتہ میں مختصراً نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا نکاح صاحب زادی مبارکہ بیگم کے بقیہ حاشیہ: - اعلان نکاح میں دوست دوشمن کو خبر ہو جاتی ہے اور اس سے جہاں ایک دوسرے کی غلطیوں سے آگا ہی ہو جاتی ہے وہاں وراثتوں اور جائدادوں کے جھگڑوں میں کوئی دقت پیدا نہیں ہوتی اور خطبہ کے کئی اغراض ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ عربی زبان کی حفاظت۔سو یہ زبان ایسی زبان ہے جس کے ساتھ دین رسول اور قوم رسول کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کی کتاب اسی زبان میں ہے اس کتاب کی حفاظت کے مختلف سامان اور ذریعے ہیں ان میں ایک اس زبان کی حفاظت بھی ہے اس لئے اس کو مسلمانوں کے لئے تمام عظیم الشان کاموں سے تعلق ہے ان کے دینی عظیم الشان کام نماز، اقرار باللسان ، حج ، روزہ زکوۃ ہے۔سوشل معاملات میں نکاح سب سے بڑا کام ہے تمدنی امور میں تجارت زراعت بھی اعلیٰ کام ہیں ، ان سب امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ، تابعین، تبع تابعین ائمہ دین ، اولیاء امت سلف صالحین اور حضرت امام الزماں نے کچھ نہ کچھ الفاظ عربی زبان کے لازمی قرار دئے ہیں۔مثلاً اقرار باللسان میں لا اله الا الله وحده لا شریک له واشهد ان محمدا عبده و رسوله امام صاحب جب بیعت لیتے ہیں تو بہت سے عربی الفاظ بیان فرماتے ہیں اور معاہدہ لیتے ہیں۔عربی کے الفاظ کی سنت متوارثہ مجدد الوقت نے بیعت کے الفاظ اور معاہدات میں لازم رکھا ہے۔عورتوں کی بیعت میں بھی میں نے سنا ہے ایسا ہی کرتے ہیں اور مردوں کی بیعت میں تو دیکھا ہے۔اقرار باللسان کے بعد اعلیٰ شان کی چیز نماز ہے۔اگر کسی نے ضائع کی تو اس نے اپنا دین ضائع کیا اور سچ تو یہ ہے کہ کفر اور اسلام کا تفرقہ اسی میں واقع ہوا ہے۔اس کا سارا ہی حصہ دیکھ لو۔سوائے اس حصہ کے جو انسانی ضرورتوں حاجتوں اور مشکلات کے لئے دعاؤں کا ہے اس کے لئے امام نے اجازت دی ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں مانگ لو اور اس سے پہلے امام ابو حنیفہ نے بھی اجازت دی ہے مگر پھر بھی اگر چہ ضرورتا اپنی زبان میں دعاؤں کی اجازت تو دی ہے لیکن مسنون دعاؤں کے ساتھ عربی کو ضائع نہیں کیا۔یہ اجازت نہیں دی کہ نماز اپنی زبان میں پڑھو ایسا ہی حج میں لبیک اللهم لبیک لاشریک لک وغیره کلمات عربی زبان میں ہیں جمعہ کے خطبے۔عیدین کے خطبے تم نے سنے ہیں ایک حصہ عربی میں ہوتا ہے اسی طرح روزہ کے متعلق جو دعائیں ہیں وہ عربی میں ہیں۔اسی طرح ہر ایک کام میں یہاں تک کہ بول و برار کے