اصحاب احمد (جلد 2) — Page 209
209 سد راہ اور حجاب کا موجب نہ ہوتی تھی۔اپنے قابل فخر خاوند کے ساتھ اس لئے اپنے وطن کو ترک کر کے اور عالی شان وسیع مکانات کو چھوڑ کر دین کی خاطر گویا تنگ اور تاریک مکانوں میں زندگی بسر کرنا دل کی خوشی کے ساتھ قبول کیا ہوا تھا یہی وجہ کہ اللہ تعالے نے اس کو بہشتی مقبرہ میں جگہ دی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے ساتھ قادیان کے باہر باغ کے متصل میدان میں اس کے واسطے نماز جنازہ ادا کی اور مرحومہ کے دفن ہونے تک اس کی قبر پر موجود رہے۔اللہ تعالیٰ اس محتر مہ کو جنت میں جگہ عطا فرمائے اور اس کی مغفرت کرے آمین ثم آمین۔حضرت اقدس جب بمعہ جماعت جنازہ کے واسطے قادیان سے باہر تشریف لائے۔تو نواب صاحب موصوف کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خدا تعالے کی قضا و قدر میں جو مقدر تھا وہ ہو کر رہا لیکن آپ نے بے شک خدمت کا حق پورے طور سے ادا کر دیا ہے فرمایا افسوس ہے کہ ان کی بیماری کے ایام میں میں خود بھی بیمار رہا اور حق دعا کا جو تھا وہ پورے طور پر ادا نہ ہو سکا اگر چہ نمازوں میں بھی میں نے ان کے واسطے دعا کی مگر مجاہدہ کے ساتھ ایک دورات نے ان کے واسطے دعا میں نہ لگا سکا۔اللہ تعالے آپ کو صبر دے اور صبر کا اجر دے اور نعم البدل عطا فر مائے خدا رحیم و کریم ہے مگر اس کے ہر کام میں کوئی حکمت مخفی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی مصائب پر جو لوگ صبر کرتے ہیں اللہ تعالے ان کو اجر عظیم دیتا ہے اور دنیا اور آخرت میں ان کو برکات عطا کرتا ہے۔☆ اغفرها مرحومہ نے اپنی وصیت میں اپنے تمام مال کا دسواں حصہ اشاعت اسلام کے واسطے لکھا ہوا تھا۔اللھم ورثہ کی تقسیم مرحومہ کے ورثہ کے تعلق میں نواب صاحب فرماتے ہیں: ”میری دوسری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا میں نے اپنی بیوی کے ورثہ کی تقسیم کی بابت دریافت کیا تو فرمایا کہ غیر احمدی ورثہ کو روثہ نہ دیا جائے۔تبرع اور اصل میں اسی طرح کچھ جگہ خالی ہے ( ناقل ) بدر جلد ۴۴ پر چہ یکم نومبر۱۹۰۶ء مرحومہ نے رسالہ الوصیت کی اشاعت کے پون سال کے اندر۳ / تمبر ۱۹۰۶ء کو وصیت کر دی تھی اس وقت ان کے پاس پانچ ہزار روپیہ نقد اور اتنی ہی مالیت کے زیورات تھے۔آپ کی وصیت کا نمبر ۱۳۸ ہے