اصحاب احمد (جلد 2) — Page 210
210 احسان کے طور پر دیا جائے تو حرج نہیں یہ بات چوک احمدیہ میں ہوئی تھی۔حضرت سیر کے لئے تشریف لائے تھے زیادہ لوگ ابھی نہ آئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ غیر احمدی اقرباء کا احمدی ورثہ لیں یا نہ لیں؟ تو فرمایا ایسا موقعہ جب آئے گا تو اس وقت بتلائیں گے۔مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے باوجو د بطور احتیاط کے ان کے قیمتی زیور وغیرہ کا شرعی حصہ والد صاحب نے ان کی والدہ اور ہمشیرہ کو دیدیا عجیب اتفاق کی بات ہے کہ جن کو یہ ورثہ ملا سب احمدی ہو گئے۔یعنی ہمارے ماموں کرنل اوصاف علی خاں صاحب اور خالہ رقیہ بیگم صاحبہ احمدی ہو چکے ہیں اور ان کی سوتیلی بہن دوسری خالہ بھی جو نشی نواب خاں صاحب ثاقب مرحوم کی بھانجی ہیں۔نواب صاحب کی بلند اقبالی کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند چنانچہ پہلی اہلیہ کے بعد دوسری اہلیہ کا صدمہ ایسا ہی ثابت ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نواب صاحب کی بلندی کے متعلق جو کشف دیکھا تھا ان پے بہ پے صدمات کے بعد وقت آن پہنچا کہ اب اس کے پورا ہونے کا عجیب طریق پر سلسلہ شروع ہو۔تا یہ ثابت ہو کہ آپ شتاب بازا در بے وفا نہیں۔حضور نے کیا کشف دیکھا حضور کے الفاظ میں سنئے ۲۲ ؍ دسمبر ۱۸۹۱ء کو رقم فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مشفقی عزیزی محبی نواب صاحب سردار محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا۔الحمد الله والمنتہ کہ خدائے تعالیٰ نے آپکو صحت بخشی۔اللہ جل شانہ آپ کو خوش رکھے اور عمر اور راحت اور مقاصد دلی میں برکت اور کامیابی بخشے ، اگر چه حسب تحریر مرزا خدا بخش صاحب آپ کے مقاصد میں سخت پیچیدگی ہے۔مگر ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہو گئی۔اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ ابھارتا ہے۔ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔میں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت روایت غیر مطبوعہ۔