اصحاب احمد (جلد 2) — Page 207
207 یعنی کیا اب تک وقت نہیں آیا کہ مومنوں کے دل خدا کے لئے فروتنی کریں اور اس سے ڈریں پس جب آیت اس شاہزادہ نے سُنی فی الفور سارنگی کو توڑ دیا اور خدا کے خوف سے رونا شروع کیا اور کہا کہ وقتم رسید وقتم رسید۔اور کہتے ہیں کہ وہ آخر کار بڑے اولیاء سے ہو گیا۔سو یہ کشف کچھ ایسی ہی خوش خبری سنا رہا ہے اس لئے کل میں نے ارادہ کیا کہ ہماری دولڑ کیاں ہیں۔مبارکہ اور امتہ النصیر۔پس امتہ الحمید بیگم کو بھی اپنی لڑکی بنالیں اور اس کے لئے نماز میں بہت دعائیں کریں تا کہ ایک آسمانی روح خدا اس میں پھونک دے۔وہ لڑکیاں تو ہماری کم سن ہیں شاید ہم ان کو بڑی ہوتی دیکھیں یا عمر وفا نہ کرے۔مگر یہ لڑکی جوان ہے ممکن ہے کہ ہم باطنی توجہ سے اس کی ترقی بچشم خود دیکھ لیں۔پس جب کہ ہم ان کو لڑکی بناتے ہیں تو پھر آپ کو چاہئے کہ ہماری لڑکی (کے) ساتھ زیادہ ہمدردی اور وسیع اخلاق سے پیش آدیں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مرحومہ کی تدفین اور اخلاق وغیرہ مرحومہ کی تدفین وحسن اخلاق کے بارہ میں معزز بدر رقم طراز ہے: وو دردناک دکھ اور دردناک واقعہ بیگم صاحبہ مرحومہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی اہلیہ صاحبہ قریباً پانچ ماہ سے بعارضہ امراض سل و دق بیمار تھیں اور آخر وہ صدمہ کا دن جس کا خوف دامنگیر ہو رہا تھا آ گیا اور بیگم صاحبہ نے گذشتہ شنبہ کے دن ۲۷ نومبر ۱۹۰۶ء کو نماز فجر کے وقت اس جہان فانی سے کوچ کیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحومہ کی عمر صرف ۲۰ سال کی تھی۔بارہ سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی۔اور آٹھ سال کے عرصہ میں جس قدر محبت اطاعت اور ہمدردی کے ساتھ مرحومہ اپنے خاوند کے واسطے قرۃ العین کا موجب ہوئیں وہ نیک بیویوں کے واسطے ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔مرحومہ کا اس چھوٹی سی عمر میں ایسا جلد انتقال کر جانے کا حال تو اسی دن سے ظاہر ہورہا تھا جس دن کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت نواب صاحب کو ایک رقعہ میں لکھا تھا کہ دردناک دُکھ - اور دردناک واقعہ والا الہام ( جو کہ اخبار بدر مورخہ ۲ مارچ ۱۹۰۶ء میں شائع ہو چکا تھا ) آپ کی بیگم صاحبہ کے مطابق ہے۔اس الہام کے علاوہ مرحومہ کے متعلق حضرت اقدس کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ امتہ الحفیظ اور یہ تینوں مکتوبات بغیر تاریخ کے ہیں چونکہ ولادت صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ کی ۱۹۰۳ء کی اور وفات اس کے چند ماہ بعد کی ہے اور ان کا اس میں ذکر ہے۔اس لئے انداز عرصہ کی تعین ہو جاتی ہے۔