اصحاب احمد (جلد 2) — Page 206
206 دس روپیہ سفید اور صاف ہیں یہ میرے دل میں گذرا ہے کہ دس روپیہ ہیں میں نے صرف دور سے دیکھے ہیں تب انہوں نے وہ دس روپیہ اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پھینکے ہیں اور ان روپیوں میں سے نور کی کرنیں نکلتی ہیں جیسا کہ چاند کی شعاعیں ہوتی ہیں وہ نہایت تیز اور چمکدار کر نہیں ہیں جو تاریکی کو روشن کر دیتی ہیں اور میں اس وقت تعجب میں ہوں کہ روپیہ میں سے کس وجہ سے اس قدر نورانی کرنیں نکلتی ہیں اور خیال گزرتا ہے کہ ان نورانی کرنوں کا اصل موجب خود وہی ہیں اس حیرت سے آنکھ کھل گئی۔گھڑی بگڑی ہوئی تھی ٹھیک اندازہ نہیں ہوسکتا مگر غالبا چار بج گئے تھے اور پھر جلد نماز کا وقت ہو گیا اور تعجب میں ہوں کہ اس کی تعبیر کیا ہے شاید اس کی یہ تعبیر ہے کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی نہایت نیک حالت در پیش ہے اسلام میں عورتوں میں سے بھی صالح اور ولی ہوتی رہی ہیں جیسا کہ رابعہ بصری رضی اللہ عنہا اور یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ زمانہ کے رنگ بدلنے سے آپ کو کوئی بڑا مرتبہ مل جائے اور آپ کی یہ بیگم صاحبہ اس مرتبہ میں شریک ہوں آئندہ خدا تعالے کو بہتر معلوم ہے۔والسلام۔خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ( مکتوب غیر مطبوعہ ) اس پر نواب صاحب نے تحریر عرض کیا کہ بسم الله الرحمن الرحیم۔سیدی دمولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔رات حضور کا والا نا مہ پہنچا۔خداوند تعالیٰ سے امید کہ حضور کی فیض صحبت اور دعاؤں سے ہم میں خاص تبدیلی پیدا ہو گی۔خدا کرے کہ ہم حضور کے قدموں میں نیکی اور عمدگی سے بسر کریں اور ترقیات روحانی ہم کو حاصل ہو۔راقم محمد علی خاں چنانچہ حضور نے جوا بار قم فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مجھے تو رات کے خواب سے کہ ایک قسم کا کشف تھا نہایت خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔کل سے میں نے ارادہ کیا ہے کہ آپ کی دعا کے ساتھ ان کو بھی شریک کر دوں۔شاید خدا تعالیٰ نے یہ نمونہ اس لئے دکھایا ہے کہ میں ایک مستعد نفس کے لئے نماز میں دعا کرتا رہا ہوں۔اصل میں دنیا اندھی ہے کسی شخص کی باطنی حالت کو معلوم نہیں کر سکتی بلکہ دنیا تو دنیا خود انسان جب تک وہ دن نہ آوے، اپنی حالت سے بے خبر رہتا ہے۔ایک شاہزادہ کا حال لکھا ہے کہ شراب پیتا اور سارنگی بجایا کرتا تھا۔اتنے میں ایک بزرگ باخدا اس کو چہ میں سے گذرے اور قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی اَلَمْ يَانِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ