اصحاب احمد (جلد 2) — Page 204
204 ۱۴۴ ناراض ہیں تو پھر دروازہ کا کھلا رہنا نا مناسب ہے۔ایسے دروازے محض آمد ورفت کے لئے ہوتے ہیں اور جب آمد ورفت نہیں تو ایسا دروازہ ایسی ٹہنی کی طرح ہے جس کو کبھی کوئی پھل نہ لگتا ہو اس لئے اس دروازہ کو بند کر دیا گیا لیکن خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت بیمار تھے اس وجہ سے آنے سے معذوری ہوئی اس عذر کے معلوم ہونے کے بعد میں نے وہ دروازہ کھلا دیا ہے اور در حقیقت ایسی بیماری جس سے زندگی سے بھی بیزاری ہے۔خدا تعالیٰ شفا بخشے۔میں نے والدہ محمود کو بھی سمجھا دیا ہے کہ ایسی سخت بیماری کی حالت میں کیونکر آسکتے تھے۔امید ہے کہ جس طرح نواب صاحب کچی ہمدردی رکھتے ہیں آپ بھی اس میں ترقی کریں خدا تعالیٰ ہر ایک آفت اور بیماری سے بچاوے۔آمین۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ محترمہ بیگم صاحبہ کی طرف سے دروازہ بند کئے جانے کے تعلق میں حضرت سیدہ نواب مبار کہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ فتنہ پرداز اشخاص ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اس وقت بھی ایک شخص اور اس کی اہلیہ اس قسم کے تھے کہ جھوٹ سچ کہنے سے انہیں باک نہ تھا اور اس سے وہ لطف اندوز ہوتے تھے۔انہوں نے حضرت اقدس کی طرف ایک غلط بات منسوب کر کے کہہ دی اور وہ یہ کہ حضور کا منشا ہے کہ فلاں فلاں مستورات جو کہ بیچاری شریف نیک احمدی خواتین تھیں آپ کے ہاں نہ آئیں جائیں نہ ان سے ملا جائے۔اب محترمہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ کو دقت ہوئی کہ کس طرح انہیں روکیں۔ایک گھر کا سا معاملہ ٹھہرا۔اور اگر کوئی چاہے تو ہر وقت آ جا سکتا تھا اس لئے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ دروازہ کا گنڈا بند رکھیں۔اس طرح ممنوعہ خواتین کوحتی الوسع ٹال دیا قبل ازیں چونکہ خانہ واحد کی صورت پر درمیانی دروازہ کھلا رہتا تھا ، اس لئے ان ہی فتنہ پردازوں نے بیگم صاحبہ کی طرف باتیں منسوب کر کے کہ وہ دراصل آنا جانا ملنا پسند نہیں کرتیں وغیرہ حضرت ام المومین اطال اللہ بقاء ہا کو بھی پہنچا دیں۔حضرت اقدس کو قدر تاریخ ہوا۔آپ نے نواب صاحب کو بیٹوں کی طرح گھر میں رکھا ہوا تھا اس لئے آپ نے بھی دروازہ بند کرا دیا۔لیکن معاملہ کھل جانے پر دروازہ کھول دیا گیا۔یہ فتنہ پرداز بار با رفتنہ پھیلانے کی کوشش کرتے تھے پھر انہیں قادیان سے نکال دیا گیا تھا۔ذیل کے مکتوب سے بھی حضور کی ان سے شفقت کا علم ہوتا ہے۔تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم عزیزہ سعیدہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں نے آپ کا خط غور سے پڑھ لیا ہے اور جس قدر آپ نے اپنی عوارض لکھی ہیں غور سے معلوم کر لئے ہیں انشاء اللہ صحت ہو جائے گی۔میں نہ صرف دوا بلکہ آپ کے لئے بہت توجہ سے دعا بھی کرتا ہوں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو پوری شفاء دیگا۔یہ تجویز جو شروع ہے آپ کم از کم