اصحاب احمد (جلد 2) — Page 190
190 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔آج صدمہ عظیم کی تار مجھ کوملی اناللہ وانا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر جمیل عطا فرمادے اور اس کے عوض کوئی آپ کو کوئی بھاری خوشی بخشے۔میں اس درد کو محسوس کرتا ہوں جو اس ناگہانی مصیبت سے آپ کو پہنچا ہو گا اور میں دعا کرتا ہوں کہ آئندہ خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے آپ کو بچائے اور پردہ غیب سے اسباب راحت آپ کے لئے میسر کرے۔میرا اس وقت آپ کے درد سے دل دردناک ہے اور سینہ نظم سے بھرا ہے خیال آتا ہے کہ دنیا کیسی بے بنیاد ہے ایک دم میں ایسا گھر کہ عزیزوں اور پیاروں سے بھرا ہوا ہو، ویران بیابان دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ اس رفیق کو غریق رحمت کرے اور اسکی اولا د کوعمر اور اقبال اور سعادت بخشے لازم ہے کہ ہمیشہ ان کو دعائے مغفرت میں یا درکھیں۔میری یہ بڑی خواہش رہی کہ آپ ان کو قادیان میں لاتے اور اس خواہش سے مدعا یہ تھا کہ وہ بھی سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر اس گروہ میں شریک ہو جاتے کہ جو خدا تعالیٰ تیار کر رہا ہے۔مگر افسوس کہ آپ کی بعض مجبوریوں سے یہ خواہش ظہور میں نہیں آئی اس کا مجھے بہت افسوس ہے۔میں نے کچھ دن ہوئے خواب میں آپ کی نسبت کچھ بلا اور غم کو دیکھا تھا۔ایسے خوابوں اور الہاموں کو ظاہر نہیں کر سکتا مجھے اندیشہ تھا آخر اس کا یہ پہلو ظاہر ہوا۔یہ تقدیر مبرم تھی جو ظہور ر میں آئی۔معلوم ہوتا ہے علاج میں بھی غلطی ہوئی یہ رحم کی بیماری تھی اور باعث کم دنوں میں پیدا ہونے کے زہریلا مواد رحم میں ہوگا۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو علاج یہ تھا کہ ایسے وقت پچکاری کے ساتھ رحم کی راہ سے آہستہ آہستہ یہ زہر نکالا جاتا اور تین چار دفعہ روز پرکاری ہوتی اور کیسٹر آئل سے خفیف سی تلین طبع بھی ہوتی اور عنبر اور مشک وغیرہ سے ہر وقت دل کو قوت دی جاتی اور اگر خون نفاس بند تھا تو کسی قدر رواں کیا جاتا اور اگر بہت آتا تھا تو کم کیا جاتا اور نر بسی اور ہینگ وغیرہ سے تشنج اور رشی سے بچایا جاتا۔لیکن جب کہ خدا تعالی کا حکم تھا تو ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔پہلی دوتاریں ایسے وقت میں پہنچیں کہ میرے گھر کے لوگ سخت بیمار تھے اور اب بھی بیمار ہیں۔تیسرا مہینہ ہے دست اور مروڑ ہیں۔کمزور ہو گئے ہیں۔بعض وقت ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ غشی پڑ گئی اور حاملہ کی غشی گویا موت ہے۔دعا کرتا ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ آپ کے گھر کے لوگوں کے لئے مجھے دعا کا موقعہ بھی نہ ملا۔تاریں بہت بے وقت پہنچیں۔اب میں یہ خط اس نیت سے لکھتا ہوں کہ آپ پہلے ہی بہت نحیف ہیں میں ڈرتا ہوں کہ بہت غم سے آپ بیمار نہ ہو جائیں اب اس وقت آپ بہادر بنیں اور استفقا مت دکھلا ئیں۔ہم سب لوگ ایک دن نوبت بہ نوبت قبر میں جانے والے ہیں۔میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ غم کو دل پر غالب ہونے اس کے جگہ آپ کے چاہئے۔جیسا کہ سیرت مسیح موعود حصہ دوم (۲۰۷) میں مرقوم ہے۔