اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 174 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 174

174 بزرگان ملت بھی اس جوش اور ہمت کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے ہیں جس کالج کے پروفیسر ایسے ایسے بزرگان ملت ہوں اس کے طلباء کی اخلاقی اور عملی حالت کس پایہ اور درجہ کی ہوگی ، اب قوم کا فرض ہے کہ وہ ہر طرح سے اپنے اس قومی کالج کی بہتری اور پا بحالی کے لئے دامے درمے اور سب سے بڑھ کر دعاؤں سے مدد کریں۔ہم کا فرٹھہریں گے اگر اس آرٹیکل کو ختم کرتے ہوئے جناب ڈائرکٹ صاحب کی سعی اور جانفشانی کا جو وہ کالج کے لئے کرتے رہتے ہیں شکریہ ادا نہ کریں۔نواب صاحب کا قریباً سارا وقت ان تجاویز اور امور کے سوچنے میں صرف ہوتا ہے جو کالج کے لئے مفید ہو سکتے ہیں اور قطع نظر اس کے جو گرانقدر عطیہ آپ کالج کے لئے دیتے ہیں وہ ناظرین سے مخفی نہیں اور پھر کالج کی بہت سی ضروریات کا تکفل آپ کرتے ہیں ہماری وہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کارخیر میں سعی اور سرگرم رہنے کی اس سے بھی بڑھ کر توفیق دے۔اور آپ کے ارادوں میں استقامت اور اپنے مقاصد میں آسانیاں پیدا کرے (آمین )۔جلسہ سے فراغت پا کر عالی جناب نواب صاحب قبلہ نے اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے حضور افتتاح کالج کا اطلاعی عریضہ لکھا جس کو معہ جواب حضرت اقدس ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ڈائر یکٹر صاحب کا عریضہ سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔مولانا مولوی عبد الکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ حضور کی طبیعت نصیب اعداء علیل ہے اس لئے حضور تشریف نہیں لا سکتے گو کہ اس سے ایک گونہ افسوس ہوا مگر وہ کلمات جو مولانا موصوف نے نیابتاً فرمائے ان سے روح تازہ ہوگئی اور خداوند تعالیٰ اور حضور کی دعاؤں کے بھروسہ پر کارروائی شروع کی گئی جلسہ نہایت کامیابی سے تمام ہوا اور کالج کی رسم افتتاح ہو گئی اطلاعاً گذارش ہے۔خداوند تعالیٰ حضور کو صحت عطا فرمائے حضور نے۔۔۔دعا فرمائی ہوگی اب بھی استدعائے دعا ہے۔راقم محمد علی خاں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا جواب بسم نحمده و نصلى على رسوله الكريم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔رات مجھ کو دل کے مقام پر درد ہوتی تھی اس لئے حاضر نہیں ہو سکا لیکن میں نے اسی