اصحاب احمد (جلد 2) — Page 134
134 لحاظ سے حقوق ملکیت اور حقوق ریاست میں بہت کمزوری آگئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم پھر اسی حالت میں ہو جائیں جو پہلے تھی یا کم از کم موجودہ حالت سے کچھ تو حالت اچھی ہو جائے اب میری حالت اس موجودہ حالت سے ترقی کو بالکل نا پسند کرتی ہے کیونکہ مجھ کو تو موجودہ حالت بھی خطرناک معلوم ہوتی ہے اس لئے زیادہ حالت بڑھی تو اور زیادہ ذمہ داریاں بڑھیں گی اور مجھے موجودہ ذمہ داریاں ہی نبھتی نظر نہیں آتیں اس سے زیادہ کہاں نبھیں گی اس لئے میں تو ذمہ داریوں کے بڑھانے میں کوشش کرنا اور ان کو چاہنا اپنے لئے سم قاتل سمجھتا ہوں اور موجودہ حالت چونکہ میری خواہش کے بغیر ملی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر شکریہ کے ساتھ اس پر قانع۔مگر ہے یہ میرے لئے بڑی مشکل چیز۔مسلمانوں کی یہی حالت ہے کہ وہ خواہش دنیا نہیں کرتے اور نہ اس کے لئے کوشش ہاں اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے تو پھر الأمُرُ فَوقُ الْأَدَبِ اس کو ایک امانت سمجھ کر گلے پڑا ڈھول بجاتے ہیں ورنہ ان کی دلی خواہش صرف دین ہوتا ہے۔تو آپ ان مندرجہ بالا سطور سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ میں دنیاوی امور میں کس قدر آپ کا شریک ہوسکتا ہوں۔سب کام خواہش پر ہوتے ہیں جب وہ دل ہی نہیں کہ جس میں خواہش ہوا اور کوئی امنگ پیدا ہوتو پھر اس کو کسی کام میں کوشش کی کیا ضرورت ہے؟ اگر کوئی کہے کہ اچھا اپنے لئے نہیں تو اولا د کے لئے ہی سہی تو اس کا جواب وہی (ہے)۔آنچه بر خود نمی پسندی بر دیگراں ہم مپسند۔پس اس لحاظ سے مجھ کو تو اب قطعاً امور سے نفرت ہے اور میرا دل اس طرف آتا ہی نہیں کہ میں اس دنیا کے میدان میں قدم رکھوں جن کو ریاست اور جا گیر اور عزت دنیا کی ضرورت ہو وہ کوشش کریں ان کو مبارک ہو۔میں تو ایک طرف ہو کر اور دنیا کے علائق کو ( چھوڑ ) چھاڑ کر اپنی عاقبت کی فکر میں ہوں معلوم نہیں کب موت آجائے پھر میری یہ کوشش وغیرہ کس کام آئیں۔مجھ کو نہ عزت دنیا کی ضرورت ہے اور نہ کسی قسم کی دنیاوی امور کی۔ہماری حالت یہ ہے کہ مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا کجا بیند دل نا پاک روئے پاک حضرت را باید مرا یک ذرہ عزت ہائے دین ودنیا نمی منه از بهر ما کرسی که ماموریم خدمت را اگر دل میں جب دنیا ہے تو دین مشکل اور اگر دین کی خواہش ہے کہ جو پھر دنیا کی ناپاکی سے دل صاف ہو تو خدا نظر آئے اور میری طبیعت اب گل ان امور سے سیر ہے۔میں تو اب اس (کے) لئے تیار بیٹھا ہوں کہ خداوند تعالیٰ جس قدر فرصت دے اس میں اپنی محبت اور ذکر کی توفیق دے۔اور ایمان کے ساتھ خاتمہ بخیر کرے اور دین کی خدمت میں اور ایمان کے ساتھ مدت العمر رہوں اور آخر سر خر وخدا کی جناب میں پہنچوں دنیا کے لحاظ سے اب ہم لوگ مرچکے اور آپ اگر دنیا کے لحاظ سے میرا وجود چاہیں تو سمجھ لیں کہ ایک بھائی