اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 128 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 128

128 کہ ہم دنیا سے چلے جائیں۔غرض سخت مزاحم معلوم ہوتی ہے۔صرف یہ ایک تدبیر ہے کہ آپ کی طرف سے ایک زنانہ مکان بقدر کفایت قادیان میں تیار ہوا اور پھر کبھی کبھی معہ قبائل اور سامان کے اس جگہ آ جایا کریں اور دو تین ماہ تک رہا کریں لیکن یہ بھی کسی قدر خرچ کا کام ہے اور پھر ہمت کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسباب پیدا کر دے اور اپنی طرف سے ہمت اور توفیق بخشے۔دنیا گذشتنی و گذاشتنی ہے۔وقت آخر کسی کو معلوم نہیں اس لیئے دینی سلسلہ کو کامل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔دانشمند کے لئے فجر سے شام تک زندگی کی امید نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے کسی سے یہ عہد نہیں کیا کہ اس مدت تک زندہ رہے گا۔ماسوا اس کے ہمارے ملک میں طاعون نے ہی ایسے پیر جمائے ہیں کہ دن بدن خطرناک حالت معلوم ہوتی ہے مجھے ایک الہام میں معلوم ہوا تھا کہ اگر لوگوں کے اعمال میں اصلاح نہ ہوئی تو طاعون کسی وقت جلد پھیلے گی اور سخت پھیلے گی۔ایک گاؤں کو خدا محفوظ رکھے گا۔وہ گاؤں پریشانی سے بچایا جائے گا۔میں اپنی طرف سے گمان کرتا ہوں کہ وہ گاؤں غالباً قادیان ہے۔اور بڑا اندیشہ ہے کہ شاید آئندہ سال کے ختم ہونے تک خطرناک صورت پر طاعون پھیل جائے اس لئے میں نے اپنے دوستوں کو یہ بھی صلاح دی تھی کہ وہ مختصر طور پر قادیان میں مکان بنالیں۔مگر یہی وقت ہے اور پھر شاید وقت ہاتھ سے جاتا رہے۔" اسی طرح حضور نے 99ء میں ماہ ستمبر میں یا اس کے قریب نواب صاحب کو تحریر فرمایا: کوئی ایسی تجویز ہو آپ کے لئے اس جگہ کوئی سامان تیار ہو جائے۔خدا تعالیٰ ہر ایک شے پر قادر ہے۔“ ۱۰۴ سو حضور کے ارشادات کی تعمیل میں حضرت نواب صاحب نے ہجرت سے قبل دو ایک کچھے کمرے دار مسیح سے ملحق جانب مشرق تعمیر کر وائے اور بعد ازاں چند سال بعد انہیں گروا کر ایک پختہ چوبارہ تعمیر کروایا۔خلافت اولی میں آپ نے قادیان کی اس وقت کی آبادی سے باہر ایک کھلی جگہ پر دار السلام کو بھی تعمیر کرایا۔جس میں باغ بھی لگوایا۔یہ کوٹھی اور باغ کئی گھماؤں زمین میں ہے۔سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ قادیان کی کوٹھی کا نام دار السلام مالیر کوٹلہ کے شہر والے مکان کا نام دار الفضل اور شیروانی کوٹ والی کوٹھی کا نام دارالاحسان حضرت صاحب نے رکھے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کی عمارات کو بھی اپنے فضل سے نوازا ہے۔چنانچہ مکرم میاں محمد