اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 114 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 114

114 سے حضرت نواب صاحب کے ہجرت کے متعلق پاک جذبات کا ہمیں علم ہوتا ہے۔آپ کے بھائی خان محمد احسن علی خاں صاحب نے لکھا کہ آپ آئیں بعض مقدمات کا انفصال آپ کے آنے پر موقوف ہے تو آپ نے جوا با تحریر فرمایا کہ: فی الحال میں کوئی تاریخ اپنے آنے کی عرض نہیں کر سکتا۔۔۔۔امراض روحانی کا علاج حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود امام آخر الزمان علیہ الصلوٰہ والسلام فرماتے ہیں۔ایسے چشمہ روحانی سے طالبان حقیقت کا علیحدہ ہونا گویا کہ سکندر کا آب حیوان سے علیحدہ ہونا ہے یا ایک طالب کا مطلوب سے علیحدہ ہونا۔ہم لوگ جس شخص کا انتظار کر رہے تھے اور جس کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہونے کا ہم کو ارمان تھا وہ امام الوقت آگیا اور خدا وند تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے ہم کو وہ چشم بینا عطا فرمائی کہ ہم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ) اور ( اللہ تعالیٰ نے ) اس کی جماعت میں داخل فرمایا فالحمد علی ذالک۔پھر ۱۶ / فروری ۱۹۰۲ء کو تحریر فرماتے ہیں : باقی رہا میرے بغیر انفصال مقدمات کا التواء سواگر کوئی معاملہ خلاف شریعت نہیں محض ریاستی ہے تو جب آپ تین صاحب ہیں تو پھر میری رائے کی ضرورت ہی کیا ؟ آپ تینوں صاحب ایسے امور میں جو کریں گے وہی میری رائے ہوگی۔“ اسی طرح آپ نے اپنی ہمشیرہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ: علاج روحانی کا یہاں سماں ہے۔دعا کے لئے موقع حاصل۔دعا کے لئے میں مختصر عرض کرتا ہوں کہ دعا کرنے کرانے کا قاعدہ لوگ بالکل نہیں جانتے۔دعا کرنے کے لئے تو چاہئے صبر اور استقلال۔اس طرح دعا مانگے جس طرح فقیر لوگوں سے مانگتے ہیں۔فقیر دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک خر گدا جوا ڑ کر لیتے ہیں۔جب تک ان کو دیا نہ جائے ٹلتے نہیں۔ایک ہوتے ہیں ٹر گدا جو صدا کی اور چل دئے۔تو دعا کرنے والے کو خر گدا بننا چاہئے۔۔۔پس انسان کو مرتے دم تک دعا کرنی چاہئے اور دعا سے تھکنا نہیں چاہیئے۔یاتن رسد بجاناں یا جاں زتن بر آید یعنی یا تو مطلوب تک انسان پہنچ جائے اور مطلب حاصل ہو جائے یا جان تن سے نکل جائے۔اب رہا دعا کرانا اس کے لئے ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح کرے۔جس سے دعا کرائی جاوے اس سے گہرا تعلق پیدا