اصحاب احمد (جلد 2) — Page 64
64 ہمرا ہیاں شریک جلسہ تھے۔66 ان خدام کے اسماء آئینہ کمالات اسلام سے اس تفصیل سمیت جواب مجھے بعض کے متعلق معلوم ہوسکی درج ذیل کئے جاتے ہیں۔(۳۰۲) شیخ ولی محمد صاحب شاه آباداہلکار خانصاحب موصوف مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ بالآخر احمدی ہو گئے تھے۔مکرم محمد عبد الرحمن خانصاحب بیان کرتے ہیں کہ شیخ صاحب بعمر قریباً ستر سال ۱۹۰۴ء یا ۱۹۰۵ء میں فوت ہوئے۔شاہ آباد ضلع انبالہ کے رہنے والے تھے۔حضرت والد صاحب کے اہلکار تھے اور دادا جان کے وقت سے ہمارے ہاں تھے۔حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی رضی اللہ عنہ کے مریدوں میں سے تھے شیخ صاحب کی اولا د غیر احمدی تھی پاکستان جا چکی ہے۔“ (۳۰۳) شیخ فضل محمد صاحب۔ملازم خان صاحب محمد ذو الفقار علی صاحب ومحمد یوسف علی خاں صاحب“ شیخ ولی محمد صاحب مذکورہ بالا کے چھوٹے بھائی تھے۔پندرہ سولہ سال ہوئے فوت ہو چکے ہیں۔“ (۳۰۴) سید شیر شاہ صاحب ملازم خانصاحب مالیر کوٹلہ۔“ (۳۰۵) میاں صفدر علی صاحب // (۳۰۶) میاں عبدالعزیز صاحب (۳۰۷) میاں جیوا صاحب ر احمدی ہو گئے تھے۔// //۔“ معروف احمدی ہیں۔وفات پاچکے ہیں۔" -// ار مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مکرم میاں محمد عبدالرحمن خانصاحب بیان کرتے ہیں کہ ”میاں جیوا گاڑی بان مالیر کوٹلہ کے رہنے والے تھے۔رتھ پر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قادیان سے گورداسپور تشریف لے جاتے تھے تو یہی میاں جیوا لے جاتے تھے۔حضور کے زمانہ میں ہی احمدی ہو گئے تھے افسوس کہ ان کی اولا د احمدی نہیں۔“ مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی تصدیق فرماتے ہیں کہ حضور کو رتھ پر یہی لے جایا کرتے تھے اور مخلص احمدی تھے۔ان کا مدرسہ کے لئے چندہ دینے کا ذکر الحکم جلد ۵ نمبر ۳ ( صفحه ۱۶ کالم ۳) و نمبر ۴ ( صفحه ۱۶ کالم) بابت جنوری ۱۹۰۱ء میں مرقوم ہے۔(۳۰۸) میاں قا در بخش صاحب ملازم خان صاحب مالیر کوٹلہ۔“ (۳۰۹) میاں برکت شاہ صاحب (۳۱۰) میاں کتنے خان صاحب (۳۱۱) میاں فتح محمد صاحب 66 -// // // // 11 66 -// 66 ار مکرم عرفانی صاحب اور