اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 34 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 34

34 خط و کتابت حضرت اقدس سے ۱۸۸۹ء میں (جو آغاز بیعت کا سال ہے ) شروع ہو چکی تھی۔حضور سے خط و کتابت کا آغا ز مولوی عبداللہ صاحب فخری کی تحریک پر ہوا۔جو خود۴ رمئی ۱۸۸۹ء کو بیعت کر چکے تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خط و کتابت کا آغا ز ۴ رمئی ۱۸۸۹ء کے بعد ہوا ہے اور جہاں تک مکتوبات کے سلسلہ سے معلوم ہوتا ہے اگست کے اوائل یا جولائی کے اواخر میں یہ سلسلہ شروع ہوا اس لئے کہ حضرت کا مکتوب ۷ راگست کا ہے اور اس سے پہلے نواب صاحب کے ایک خط کا جواب جاچکا تھا اور یہ وہی خط ہے جو فخری صاحب کی تحریک پر لکھا اور جس میں استدعاء دعا معصیت سے رستگاری کے لئے تھی۔‘اس امر کی تائید خود نواب صاحب کے دوسرے بیان سے بھی ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں نے بہ تحریک اپنے استاد مولوی عبداللہ فخری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں غالباً آخر ۱۸۸۹ ء یا ابتدائے ۱۸۹۰ ء ( میں ) خط دعا کے لئے لکھا تھا۔جس پر حضرت نے جواب میں لکھا کہ دعا بلا تعلق نہیں ہوسکتی آپ بیعت کر لیں اس پر میں نے جواباً ایک عریضہ لکھا تھا کہ میں شیعہ ہوں اور اہل تشیع ائمہ اثناعشر کے سوا کسی کو ولی یا امام نہیں تسلیم کرتے اس لئے میں آپ کی کس طرح بیعت کر سکتا ہوں* مولوی عبداللہ صاحب فخری کا نمبر بیعت ۹۳ اور تاریخ بیعت ۴ رمئی ۱۸۸۹ء ہے یہ کاندھلہ ضلع مظفر نگر کے باشندہ تھے (رجسڑ بیعت ) چیفس کالج میں مدرس تھے جلد احمدیت سے برگشتہ ہو گئے تھے۔چنانچہ فخری صاحب کو نواب صاحب نے ۱۲ / فروری ۱۹۰۲ء کو ایک مکتوب میں لکھا کہ ”اس سعادت عظمی کے رہنما آپ ہی تھے۔مگر بمصداق آگ لگا جما لوڈ ورکھڑی۔آپ الگ ہوئے۔نہایت تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ میرے اسطرف آنے کی ابتدا اور آپ کے الگ ہونے کی ابتدا اسی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔“ یہ مکتوب تحریک بیعت کا جس کا ذکر نواب صاحب کے نام حضوڑ کے مکتوب مورخہ ۷ /اگست ۱۸۸۹ء میں بھی آتا ہے کہیں سے دستیاب نہیں ہو سکا۔* اس کا جواب نواب صاحب کے الفاظ میں یوں مذکور ہے: اس پر حضرت نے ایک طولانی خط لکھا جس کا ماحصل یہ تھا کہ اگر برکات روحانیہ محض ائمہ اثناعشر پر ختم ہو گئے تو ہم جو روز دعامانگتے ہیں اهــدنـا الـصـراط المستقيم صراط الذین انعمت علیھم یہ سب بیکا ر ہے اور اب سے تو ہو چکی درد باقی ہے۔کیا ہم درد کیلئے اب مشقت ریاضات کریں۔حضرت نے یہ بھی لکھا کہ منجملہ ان لوگوں کے جو