اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 35 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 35

35 اس کے جواب میں ذیل کا مکتوب حضور نے رقم فرمایا: بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَنُصَّلِى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از طرف عائد باللہ الصمد غلام احمد عافاه اللہ والید - با خویم محمد علی خاں صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ آپ کا خط پہنچا۔اس عاجز نے جو بیعت کے لئے لکھا تھا۔وہ محض آپ کے پہلے خط کے حقیقی جواب میں واجب سمجھ کر تحریر ہوا تھا۔کیونکہ آپ کا پہلا خط اس سوال پر متضمن تھا کہ پر معصیت حالت سے کیونکر رستگاری ہو۔سو جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس عاجز پر القاء کیا تحریر میں آیا۔اور فی الحقیقت جذبات نفسانیہ سے نجات پانا کسی کے لئے بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ عاشق زار کی طرح خاکپائے محبان الہی ہو جائے اور بصدق وارادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے جس کی روح کو روشنی بخشی گئی ہے تا اس کے چشمہ صافیہ سے اُس فرد ماندہ کو زندگی کا پانی پہنچے۔اور اس تر و تازہ درخت کی ایک شاخ ہو کر اس کے موافق پھل لاوے۔غرض آپ نے اپنے پہلے خط میں نہایت انکسار اور تواضع سے اپنے روحانی علاج کی درخواست کی تھی۔سو آپ کو وہ علاج بتلایا گیا تھا جس کو سعید آدمی بصد شکر قبول کرے گا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ ابھی آپ کا وقت نہیں آیا۔معلوم نہیں کہ ابھی کیا کیا دیکھنا ہے۔اور کیا کیا ابتلاء در پیش ہے۔اور یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ میں شیعہ ہوں اس لئے میں بیعت نہیں کر سکتا۔سو آپ کو اگر صحبت فقراء کاملین میسر ہو تو آپ خود ہی سمجھ لیں کہ شیعوں کا یہ عقیدہ کہ ولایت اور امامت بارہ اماموں پر ختم ہو چکی ہے اور اب خدا تعالیٰ کی یہ نعمت آگے نہیں ہے بلکہ پیچھے رہ گئی کیسا لغو اور حقانیت دور ہے اگر خدائے کریم و رحیم کو بھی منظور تھا کہ ولایت اور امامت بارہ شخصوں پر محدود ہو کر آئندہ قُرب الہی کے دروازوں پر مُبر لگ جائے تو پھر اس سے تمام تعلیم اسلام عبث ٹھہرتی ہے اور اسلام ایک ایسا گھر ویران اور سنسان ماننا پڑتا ہے جس میں کسی نوع کی برکت کا نام ونشان نہیں۔اور اگر یہی سچ ہے کہ خدا تعالیٰ تمام برکتوں اور امامتوں اور ولایتوں پر مہر لگا چکا ہے اور آئندہ بکلی وہ راہیں بند ہیں۔تو خدائے تعالیٰ کے سچے طالبوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دل توڑنے والا واقعہ نہ ہوگا۔گویا وہ جیتے ہی مرگئے اور اُن کے ہاتھ میں بجز چند خشک قصوں کے اور کوئی مغز اور بات نہیں۔اور اگر شیعہ لوگ اس عقیدہ کو سچ مانتے ہیں تو پھر کیوں بقیہ حاشیہ: - حضرت امام حسینؓ کے ہم پلہ ہیں میں بھی ہوں بلکہ ان سے بڑھ کر۔“ (القول الفصل ۶۴) حضرت امام حسین کے متعلق جو یہاں ذکر آیا ہے وہ دراصل دوسرے مکتوب میں حضوڑ نے تحریر فرمایا ہے جیسا کہ متن کتاب میں مکتوبات مندرجہ سے ظاہر ہے۔(مولف)