اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 29 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 29

29 29 سید گل علی شاہ صاحب بٹالوی کے فرزند تھے حضرت مسیح موعود کا ذکر سُنا۔اس لئے کہ نواب صاحب کے والد بزرگوار شیعہ تھے اور شیعہ علماء کی ان کے ہاں آمد و رفت تھی۔مولوی سید گل علی شاہ کا خاندان علمی امتیاز رکھتا تھا اس لئے آپ کی تعلیم کے لئے ان کے صاحبزادہ کو منتخب کیا۔اس سلسلہ میں وہ فخر یہ اظہار کے لئے کہ میرے بقیہ حاشیہ: مکرم عرفانی صاحب نے بھی ۸۳ ء میں درج کیا ہے۔پہلی بار براہین احمدیہ حصہ چہارم کی طباعت کے شروع ہو نیکا ذکر مکتوب نمبر ۱۹ میں پایا جاتا ہے چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں الحمد للہ کہ کام طبع کا شروع ہے اور یہ مکتوب ۱۵ جون ۸۳ ء کا ہے لیکن مکتوبات مذکورہ بالا سے ظاہر ہے کہ ابھی طباعت کا کام شروع نہیں ہوا تھا۔اس لئے معلوم ہوا کہ مکتوبات مذکورہ بالا اپریل ۸۳ء کے قریب کے اور ۵ ارجون ۸۳ء سے پہلے کے ہیں۔(۳) مکتوب مورخه ۲ ستمبر ۸۳ء میں حضور تحریر فرماتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اگر خدا نے چاہا تو لدھیانہ مولوی صاحب کی ملاقات ہوگی۔(۴) اسی طرح مکتوب مورخہ ۹ نومبر ۸۳ء میں حضور فرماتے ہیں یہاں سے ارادہ کیا گیا تھا کہ امرتسر جا کر بعد اطلاع دہی ایک دو دن کے لئے آپ کی طرف آؤں مگر چونکہ کوئی ارادہ بغیر تائید الهی انجام پذیر نہیں ہو سکتا اس لئے یہ خاکسار امرتسر جا کر کسی قدر علیل ہو گیا نا چار وہ ارادہ ملتوی کیا گیا۔‘ (۵) مکتوب مورخہ ۲۰ نومبر ۸۳ء میں حضور تحریر فرماتے ہیں کہ دل میں ارادہ تو ہے کہ ایک دو روز کے لئے آپ کے شہر میں آؤں مگر بجز مرضی باری تعالیٰ کیونکر پورا ہو۔(۶) مکتوب مورخہ ۱۹دسمبر ۸۳ء میں تحریر فرماتے ہیں کہ ” آج میرا ارادہ تھا کہ صرف ایک دن کیلئے آنمخدوم کی ملاقات کے لئے لد ہیانہ کا قصد کروں لیکن خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ حال طبع کتاب کا ابتر ہورہا ہے۔۔۔۔ناچار اس بندو بست کیلئے کچھ دن امرتسر ٹھہر نا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶ دسمبر ۸۳ ء تک بعض احباب بطور مهمان قادیان میں آئیں گے اور ان کے لئے اس خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے۔۔۔اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کیلئے امرتسر میں فراغت پا کر آنمخدوم کی طرف روانہ ہوں گا۔‘‘ (۷) نیز فرماتے ہیں کہ عاجز اگر چہ بہت چاہتا ہے کہ آن مخدوم کے بار بار لکھنے کی تعمیل کی جائے مگر کچھ خداوند کریم ہی کی طرف سے ایسے اسباب آپڑتے ہیں کہ رک جاتا ہوں۔“ (۸) یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ نے حضور کو لدھیانہ آنے کی تحریک کی لیکن حضور نے ۲۲ جنوری ۸۴ ء کے مکتوب میں لد ہیا نہ آنے سے معذرت فرمائی۔66 براہین احمدیہ جو چھ سات ماہ سے زیر طبع تھی سفر لدھیانہ و مالیر کوٹلہ تک ابھی اس کی طباعت زیر تکمیل تھی اور ۲۱ فروری ۸۴ ء کے مکتوب میں حضور علماء دہلی کو حصہ چہارم بھیجوانے کا ذکر فرماتے ہیں معلوم ہوا کہ حضور کا سفر