اصحاب احمد (جلد 2) — Page 28
28 حضرت مسیح موعود سے تعلقات کا آغاز سب سے اول بچپن میں تین چار سال کی عمر میں آپ نے اپنے ایک استاد سے جو شیعہ مذہب مولوی بقیہ حاشیہ پر بحث فرمائی ہے۔اور مکتوب نمبر ۱۲ ( محر ر ہ ۲۶ را پریل ۸۳ء) میں معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب کی طرف سے استفسار پر حضور نے تحریر فرمایا کہ حضور کے نزدیک کونسا درود بہتر ہے۔مکتوب مورخہ ۱۵ اپریل میں حضور میر صاحب کو نصیحت فرماتے ہیں کہ استعداد قریبہ پیدا کرنے کیلئے اپنے دل کو ماسوا اللہ کے شغل اور فکر سے بکلی خالی اور پاک کر لینا چاہئے۔اور کسی کا حسد اور نقار دل میں نہ رہے اور مکتوب نمبر11 زیر بحث میں بھی تحریر فرماتے ہیں کہ ایک بات واجب الاظہار ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت ملاقات ایک گفتگو کی اثناء میں بنظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ کچھ دل میں انقباض ہے اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے ہیں حضرت احدیت کی نظر میں درست نہیں۔اسی طرح مکتوب نمبر ۹ اور مکتوب مورخہ ۸۳-۴-۱۵ کا مضمون مشابہ ہے اور مقدم الذکر ہی میں لدھیانہ کے سفر کے التواء کا ذکر ہے۔یہ امر بنظر کشفی حضور نے میر صاحب کے قادیان میں قیام کے وقت دیکھا تھا اور مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سفر میر صاحب نے ابتدا ۸۳ء میں کیا تھا۔اور مولف تذکرہ نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے۔۲- حضور اپنے مکتوب نمبر ۱۵ میں میر عباس علی صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: (الف) ”اب حصہ چہارم کے طبع کرانے میں کچھ تھوڑی تو قف باقی ہے اور موجب توقف یہی ہے کہ جو تین جگہ سے بعض سوالات لکھے ہوئے آئے ہیں ان سب کا جواب لکھا جائے۔یہ عاجز ضعیف الدماغ آدمی ہے بہت محنت نہیں ہوتی آہستہ آہستہ کام کرنا پڑتا ہے۔“ (ب) اس مکتوب میں ایک خواب کا ذکر بھی حضور نے فرمایا ہے۔جس میں حضور نے دیکھا کہ حضور محافظ دفتر کا عہدہ رکھتے ہیں نیز اس مکتوب میں حضور نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ : ر بھی مولوی ( عبد القادر ) صاحب کا اس جگہ تشریف لانا بے وقت ہے یہ عاجز حصہ چہارم کے کام سے کسی قد رفراغت کر کے اگر خدا نے چاہا اور نیت صحیح میسر آگئی تو غالباً امید کی جاتی ہے کہ آپ ہی حاضر ہوگا۔اس خط میں حضور نے مولوی عبد القادر صاحب کو قادیان آنے سے منع فرما دیا اور امید ظاہر کی ہے کہ خود لدھیانہ تشریف لے جائینگے۔چونکہ اسوقت تک براہین احمدیہ حصہ چہارم کے پایہ تکمیل کو نہ پہنچنے کا بھی ذکر ہے اس لئے یہ مکتوب ۱۸۸۳ء کا ہی معلوم ہوتا ہے۔اس مکتوب میں ایک رؤیا کا ذکر ہے جسے مولف تذکرہ اور