اصحاب احمد (جلد 2) — Page 694
694 ۳۳ - اسی طرح تحریر فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ نحمده ونصلى على رسوله الكريم رات مجھے مولوی صاحب نے خبر دی کہ آپ کی طبیعت بہت بیمار تھی تب میں نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا رہا۔چند روز ایک دینی کام کے لئے اس قدر مجھے مشغولی رہی کہ تین راتیں میں جاگتا رہا۔اللہ تعالیٰ آپ کو شفا بخشے۔میں دعا میں مشغول ہوں اور بیماری مومن کے لئے کفارہ گناہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ شفا بخشے آمین۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۵۱۸ ۳۴- حضور نے نواب صاحب کو تحریر فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ آپ کو تمام عموم و ہموم سے نجات بخشے۔آمین۔۔۔جہاں تک مجھ سے ممکن ہے آپ کے لئے دعا میں مشغول ہے * اور میرا ایمان ہے کہ یہ دعائیں خالی نہیں جائیں گی۔آخر ایک معجزہ کے طور پر ظہور میں آئیں گی اور میں انشاء اللہ دعا کرنے میں ست نہیں ہوں گا جب تک اس قسم کا معجزہ نہ دیکھ لوں۔پس آپ کو اپنے دل پر غم غالب نہیں کرنا چاہئے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ صبر کے ساتھ آخری دن کا انتظار کریں گے تو انجام کار میری دعاؤں کا نمایاں اثر ضرور دیکھ لیں گے۔“ ( غیر مطبوعہ ) سوحضوڑ کی دعائیں نواب صاحب کے تعلق میں بارگاہ ایزدی میں مقبول ہوئیں۔آپ احمدیت کے رنگ سے ایسے رنگین ہوئے کہ ظاہری و باطنی اتحاد سے لگا نگت دمک دمی و لحمک لحمی کی حد تک پہنچی اور حضور کی دامادی کا دُہرا شرف آپ کے خاندان کو نصیب ہوا حتیٰ کہ حضرت عثمان ذوالنورین کی مماثلت میں دو نبی زادیوں کے رشتہ قرابت سے آپ کا خاندان ذوالنورین ہونے کی سعادت سے بہرہ اندوز ہوا۔پھر نواب صاحب کی اولاد میں سے کئی صاحبزادیاں حضور کے خاندان میں شادی ہوکر موعودہ خواتین مبارکہ میں شامل ہوئیں اور حضور کی مبشر اولاد کی کئی صاحبزادیاں نواب صاحب کی اولاد کی زوجیت میں آئیں۔اس طرح نہ صرف وہ معجزہ ظہور میں آیا جس کا حضور نے مکتوب مذکورہ بالا میں ذکر فرمایا ہے بلکہ ۱۸۹۱ء کا وہ کشف بھی پورا ہوا جس میں حضور نے نواب صاحب کے متعلق دیکھا تھا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہوگئی اور جیسے اقبال