اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 20 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 20

20 20 اس امر کی تائید کہ سرسید کے مخصوص معتقدات سے نواب صاحب نے صرف ابتدائی زمانہ میں کسی قدر اثر قبول کیا اور بعد میں سرسید کی قومی خدمت اور تعلیمی مساعی کی قدردانی ہی رہ گئی اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ سلسلہ بیعت ۱۸۸۹ء میں شروع ہوا اور اسی سال حضرت خلیفتہ المسیح اول اور اگلے سال حضرت نواب صاحب اس سلسلہ میں داخل ہو گئے۔اور حضور نے سرسید کے اعتقادات نیچریت کی تردید میں اپریل ۱۸۹۳ء میں ایک کتاب برکات الدعا تصنیف فرمائی۔لیکن حضرت مولوی صاحب و حضرت نواب صاحب نے سالانہ ممبری کے چندے روئیدادوں کی رو سے ۱۸۹۴ء میں بھی ادا کئے جو ۱۸۹۵ء کے لئے تھے جس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ معتقدات سرسید سے ان بزرگوں کو کوئی غرض نہ تھی بلکہ ان کی تعلیمی مساعی میں تعاون و امداد مقصود تھی۔اس کی تصدیق جناب شیخ عبداللہ صاحب حال میجر گرلز ہائی سکول علیگڑھ کے بیان سے بھی ہوتی ہے انہوں نے مولوی بشیر احمد صاحب کو بتایا کہ مجھے حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پرورش کیا تھا اور پھر سرسید کے مشورہ سے مجھے حصول تعلیم کیلئے ۱۸۹۱ء میں علیگڑھ بھیج دیا تھا۔اس سنہ کے بعد مجھے یاد نہیں کہ حضرت مولوی صاحب اور حضرت نواب صاحب اجلاسات میں شرکت کے لئے کبھی علیگڑھ آئے ہوں کیونکہ جماعت احمد یہ اور سرسید میں کافی اختلاف ہو گیا تھا۔گویا شیخ صاحب کے نزدیک یہ دونوں بزرگ اختلاف معتقدات کی بناء پر ۱۸۹۱ء کے بعد علی گڑھ نہیں گئے لیکن دونوں چند ہ۱۸۹۴ ء تک دیتے رہے جس سے ظاہر ہے کہ معتقدات میں اختلاف کے باوجود بھی سرسید کی تعلیمی کارگزاریوں کی خاطر تعاون کیا جاتا تھا۔چنانچہ نواب صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ” میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس وقت بیعت کی ہے میری حالت ایک صاف زمین کی سی تھی جس پر سے پرانے عقائد کا اثر دور ہو چکا تھا۔جو کچھ ازالہ اوہام میں آپ نے میری عبارت کو بقیہ حاشیہ: - میرا ارادہ محض روا ئدادوں کے مطالعہ کیلئے خود علی گڑھ جانے کا تھا کہ حسنِ اتفاق سے اس اثناء میں مکرم مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ و امیر جماعت دہلی کو وہاں جانے کا موقعہ ملا۔میری استدعا پر انہوں نے تکلیف فرما کر مکرم ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب لیکچرار طبیہ کالج کی معاونت سے یہ حوالہ جات تلاش کئے۔میں ہر دو کا بہت ممنون ہوں۔فالحمد لله وجزاهم الله احسن الجزاء۔آئینہ کمالات اسلام کی فہرست میں ( نمبر ۲۹۹ پر شیخ صاحب کا نام درج ہے جنہوں نے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شمولیت کی تھی۔لیکن شیخ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی بیعت نہیں کی۔اور مکرم عرفانی صاحب اس کی تصدیق فرماتے ہیں۔