اصحاب احمد (جلد 2) — Page 19
19 گئی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تقریر سے اتنے متاثر ہوئے کہ اس تقریر کے بعد خاص طور پر نواب صاحب کی ملاقات کو آئے یہ دونوں بزرگوں کی اولین ملاقات تھی۔فرماتے تھے کہ میں نے سبز پشمینہ کا شملہ باندھ رکھا تھا۔آتے ہی مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں دیکھنے آیا ہوں کہ یہ سبز پگڑی والا نو جوان کون ہے جس نے اس موضوع پر اتنی اچھی روشنی ڈالی ہے۔“ ہیں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی روا ئیدادیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نواب صاحب کا تعلق سرسید کی تعلیمی تحریک سے ۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۴ ء تک رہا۔چنانچہ ان روئیدادوں میں ذیل کے چندہ جات کا ذکر ہے ان سالانہ اجلاسات میں صرف وہی شخص شریک ہو سکتا تھا جس نے پانچ سے دس روپیہ تک چندہ ممبری دیا ہو۔لیکن چندہ دینا اور اجلاس میں شرکت کرنا لازم ملزوم نہ تھا۔ممکن ہے کہ چندہ دیا ہولیکن اجلاس میں شرکت نہ کی ہو۔جیسا کہ چندہ دہندگان اور اجلاسات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد مندرجہ کے تفاوت سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔ان مطبوعہ روائید دوں میں جو چندوں کا ذکر ہے درج ذیل کیا جاتا ہے: (الف) تیسرا سالانہ اجلاس دسمبر ۱۸۸۷ء میں لاہور میں منعقد ہوا اس میں ۲۳۲ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ متعلم چیفس کالج لاہور اور ۲۴۳ مولوی حکیم نورالدین صاحب حکیم ریاست جموں نے پانچ پانچ روپے چندہ دیا۔(ب) چوتھا سالانہ اجلاس بمقام علیگڑھ ۲۷ تا ۳۰ / دسمبر ۱۸۸۹ء کو منعقد ہوا۔۱۹۴ مولوی عبد الکریم صاحب مدرس میونسپل بورڈ اسکول سیالکوٹ نے پانچ اور ۳۶۹ نواب محمد علی خاں صاحب بہادر رئیس مالیر کوٹلہ متعلم ایچیسن کالج لاہور نے دس روپے چندہ ممبری نیز پچاس روپے کا عطیہ دیا۔۴۰۲ حکیم نورالدین معرفت دل احمد صاحب اسلامیہ بورڈنگ ہاؤس لاہو نے پانچ روپے چندہ دیا۔(ج) پانچویں سالانہ اجلاس منعقدہ ۱۸۹۰ء بمقام الہ آباد میں۔’۹۴۵ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ضلع لدھیانہ نے دس روپے ۹۷۶ حکیم نورالدین صاحب از جموں نے پانچ روپے چندہ دیا۔(1) آٹھویں سالانہ اجلاس منعقدہ ۱۸۹۳ء بمقام علی گڑھ میں ۵۰ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹ نے دو روپے اور (۵۰۳) نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے دس روپئے اور ۶۲۱ مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیرہ ضلع شاہ پور نے پانچ روپے چندہ دیا۔(ھ) نویں اجلاس منعقدہ ۱۸۹۴ء بمقام علیگڑھ میں ۳۲۳ نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ“ نے دس رویے چندہ دیا۔